’ایسا لگتا ہے جیسے ہم پنجرے میں قید ہوں‘، اسلام آباد میں گزشتہ 10 دنوں سے جاری ’لاک ڈاؤن‘ کے سبب عوام مشتعل

AhmadJunaidJ&K News urduApril 23, 2026362 Views


پورے اسلام آباد میں لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے، سڑکیں کئی دنوں سے سنسان ہیں، دکانیں بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی روک دی گئی ہے۔ افسران اور دفاتر میں کام کرنے والوں کو گھر سے کام کرنے کو کہا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div><div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>

i

user

امریکہ-ایران مذاکرات کی امید میں پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد گزشتہ 10 دنوں سے لاک ڈاؤن کی صورت میں ہے۔ اسلام آباد میں سڑکیں بند ہیں، بازارا ٹھپ پڑے ہیں اور چاروں طرف سیکورٹی فورسز کے پہرے ہیں۔ اسلام آباد کے رہنے والے فداء اللہ امریکہ-ایران مذاکرات کی بات سن کر ہی بھڑک اٹھتے ہیں اور پاکستانی حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔

مہنگائی سے پریشان پاکستان کی غریب عوام کا کام کاج اس سیکورٹی لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹھپ ہو گیا ہے اور کمائی کا سارا راستہ بند ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ان حالات سے پریشان مقامی شہری محمد صابر نے کہا کہ ’’عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے، کبھی بول رہے ہیں ٹرمپ آ رہا ہے اور کبھی بول رہے ہیں ایرانی صدر آ رہے ہیں۔ بھائی آئیں مذاکرات کریں اور یہ سب ختم کریں۔ پاکستانی عوام کدھر جائے بے چارے وہ تو بھوکے مرتے رہیں گے، نہ کوئی کاروبار ہے اور نہ کوئی کام۔‘‘

پورے اسلام آباد میں لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے۔ یہاں کی سڑکیں کئی دنوں سے خالی پڑی ہیں، دکانیں بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی روک دی گئی ہے۔ افسران اور دفاتر میں کام کرنے والوں سے گھر سے ہی کام کرنے کو کہا گیا ہے، جبکہ مزدوروں کے پاس کوئی کام نہیں بچا ہے۔ سڑکوں پر صرف فوج اور پولیس کی وردی پہنے لوگ ہی نظر آ رہے ہیں۔ کئی لوگوں کو ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ پھر سے کووڈ-19 کے دور میں لوٹ آئے ہوں۔ لوگوں کے لیے یہ بے حد سخت اور غیر معینہ مدت تک چلنے والی پابندیاں اب پریشانی اور معاشی تنگی کا سبب بن گئی ہیں۔

اسلام آباد اور اس کے پڑوسی شہر راولپنڈی میں کام کرنے والے کئی مزدور جو فلیٹ کا کرایہ ادا کرنے سے قاصر تھے، انہیں ہفتہ (18 اپریل) کو ایک سرکاری حکم کے بعد بغیر کسی اطلاع کے ان کے ہاسٹل سے نکال دیا گیا۔ اس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو آناً فاناً میں رہنے کے لیے دوسری جگہ تلاش کرنی پڑی۔ اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ہیلتھ آفیسر عریض اختر کہتی ہیں کہ میں ان ہزار لوگوں میں سے ایک تھی جنہیں ان کے کمروں سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ہفتہ کو بہت افراتفری مچی تھی میں خوش قسمت ہوں کہ میرا گاؤں یہاں سے صرف 3 گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ لیکن بہت سے لوگ جو دور کے شہروں اور علاقوں سے آئے تھے، انہیں اپنے ساتھی ملازمین، دوستوں اور رشتہ داروں سے منتیں کرنی پڑیں کہ جب تک امریکہ-ایران بات چیت مکمل نہیں ہو جاتی تب تک انہیں اپنے یہاں رہنے دیں۔‘‘

’دی گارجین‘ سے بات چیت میں اختر نے یہ بھی بتایا کہ جیسے جیسے بات چیت میں تاخیر ہوتی گئی ان کی ناامیدی میں اضافہ ہوتا گیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے کا مطلب ہے کہ وہ شہر واپس نہیں جا پا رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی پنجرے میں رہ رہے ہوں۔ ہم کام پر واپس نہیں جا سکتے۔ میرے جیسے بہت سے لوگ فلیٖٹ کا کرایہ نہیں دے سکتے، اس لیے ہم ہاسٹل میں رہتے ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...