
موجودہ وقت میں ایک طرف امریکہ نے ایران کو ہر طرف سے گھیرنے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے وہیں دوسری طرف امن مذاکرات کے سبھی راستے بند نظر آرہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک اس پورے علاقے میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی ٹھوس سمجھوتہ نہیں ہوتا ہے، تب تک عالمی تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہوں پر یہ خطرناک ’آنکھ مچولی‘ اور تشدد جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔ عام آدمی اور بازار کے لیے اس کا مطلب یہی ہے کہ جب تک سمندر میں امن نہیں ہوگا اس وقت تک خام تیل کی قیمتوں میں لگی آگ سے مہنگائی کی چنگاری پھیلنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔






