
امریکہ کے مشی گن اسٹیٹ کے شہر ڈیر بورن میں 10 اپریل 2026 کو منعقد ایک تعزیتی تقریب کے دوران لبنان میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں پوسٹر اٹھائے بچے۔تصویر: اے پی / پی ٹی آئی
نئی دہلی: ایران پر جاری امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 53ویں دن حالات اب بھی غیر یقینی ہیں۔ ایک طرف سفارتی مذاکرات کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف دھمکیوں، فوجی کارروائیوں اور احتجاجی مظاہروں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ٹرمپ کی وارننگ: بات چیت کرو، ورنہ ’نتائج بھگتو‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنی ہی ہوگی، ورنہ اسے ’ ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔‘
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور انہیں دوبارہ تعمیر کرنا ایک ’ طویل اور مشکل عمل‘ ہوگا۔ ٹرمپ کے مطابق، امریکہ کے پاس کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
سفارتی کوششیں جاری، لیکن تعطل برقرار
ایران پر حملوں کے درمیان سفارتی سطح پر حل کی کوششیں اب بھی غیر یقینی ہیں۔ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ’ دھمکیوں کے سائے میں‘ کسی طرح کی بات چیت نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے کہا ہے کہ جب تک ایران کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
اسی دوران لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تحت دونوں فریق جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں دوبارہ مذاکرات کے لیے پہنچیں گے۔
تاہم، زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے ہیں۔ قعقعيت الجسر نامی قصبے میں ایک فضائی حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے، جبکہ خیام قصبے میں متعدد گھر تباہ کر دیے گئے۔ یہ کارروائی 10 روزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے۔
ایران کا ردعمل: اقوام متحدہ میں شکایت
ایران نے امریکہ کی جانب سے اس کے مال بردار جہاز ’ٹوسکا‘کو ضبط کیے جانے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ ایران نے اس اقدام کو ’غیر قانونی اور وحشیانہ‘قرار دیا ہے جو بین الاقوامی قانون اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ایران نے جہاز، اس کے عملے اور ان کے اہل خانہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ عملے اور ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔
امریکہ میں احتجاج: جنگ کے خلاف مظاہرے
امریکہ میں بھی اس جنگ کے خلاف احتجاج زور پکڑ رہا ہے۔ نیوز ویب سائٹ ’دی ہل‘کے مطابق، واشنگٹن ڈی سی میں ایک پارلیامانی عمارت میں احتجاج کے دوران 60 سے زائد سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو گرفتار کیا گیا۔
مظاہرین کینن ہاؤس آفس بلڈنگ کے اندر جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے ایران میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں سرخ ٹیولپ کے پھول اٹھا رکھے تھے اور’ایران پر جنگ ختم کرو‘کے نعرے والے بینر دکھائے۔
احتجاج کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی علامتی یاد میں پرچم تہ کرنے کی رسم بھی ادا کی گئی۔ بعد میں کیپٹل پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
لبنان میں تباہی: خالی گھروں پر حملے
اسرائیلی فضائی حملوں سے لبنان کی مشرقی بیکا وادی میں شدید نقصان ہوا ہے۔
مشغارہ قصبے کے رہائشیوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایک حملے میں دو خاندانوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ مقامی رہائشی محمود ابراہیم نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے قریب گاڑی کھڑی کر کے اندر گئے ہی تھے کہ چند منٹ بعد زور دار دھماکہ ہوا، جس سے ان کے گھر کی کھڑکیاں، دروازے اور گھر کا سامان شدید طور پر تباہ ہوگیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق یہ گھر پہلے ہی خالی کیے جا چکے تھے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ انہیں نشانہ کیوں بنایا گیا۔ تاہم حملے کے وقت وہاں سے گزرنے والے ایک شخص کی موت ہو گئی۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






