جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ہندوستان اور کوریا کے درمیان دو طرفہ تجارت 27 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ آج ہم نے اسے 2030 تک بڑھا کر 50 بلین ڈالر کرنے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مالی بہاؤ کو آسان بنانے کے لیے ہم نے ’ہندوستان-کوریا مالیاتی فورم‘ شروع کیا ہے۔ تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک صنعتی تعاون کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اہم ٹیکنالوجی اور سپلائی چین میں تعاون بڑھانے کے لیے ہم اقتصادی سیکورٹی مکالمہ شروع کر رہے ہیں۔ کوریائی کمپنیوں، خاص طور پر ایس ایم ایز کے ہندوستان میں داخلے کو آسان بنانے کے لیے ہم کوریائی صنعتی ٹاؤن شپ بھی قائم کریں گے اور اگلے ایک سال کے اندر ہم ہندوستان-کوریا تجارتی معاہدے کو بھی اپگریڈ کریں گے۔
وزیر اعظم مودی نے ہندوستان-کوریا ’ڈیجیٹل برج‘ شروع کیے جانے کی انتہائی اہم جانکاری بھی دی۔ لی جے میونگ سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم اگلی دہائی کی کامیابی کی کہانیوں کے لیے بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اے آئی، سیمی کنڈکٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں شراکت داری کو گہرا کرنے کے لیے ہم ہندوستان-کوریا ڈیجیٹل برج شروع کر رہے ہیں۔ ہم جہاز سازی، پائیداری، اسٹیل اور بندرگاہوں جیسے شعبوں میں مفاہمت ناموں (ایم او یو) پر دستخط کر رہے ہیں۔ ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں میں تعاون کے ذریعے ہم فلم، اینیمیشن اور گیمنگ کے میدان میں بھی نئے سنگ میل قائم کریں گے۔ آج کا تجارتی فورم ان مواقع کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کشیدگی کے اس دور میں ہندوستان اور کوریا مل کر امن و استحکام کا پیغام دے رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ آج کوریا انٹرنیشنل سولر الائنس اور انڈو-پیسیفک اوشنز انیشی ایٹو میں شامل ہو رہا ہے۔ ہم اپنے مشترکہ اقدامات کے ذریعے ایک پُرامن، ترقی پسند اور جامع انڈو-پیسیفک کی سمت میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات ضروری ہیں۔ وزیر اعظم مودی کے مطابق تقریباً 100 سال قبل ہندوستان کے عظیم شاعر گرو دیو رویندر ناتھ ٹیگور نے کوریا کو ’مشرق کا چراغ‘ کہا تھا اور آج کوریا ’وِکست ہندوستان 2047‘ کے ہمارے عزم کو حقیقت میں بدلنے میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ آئیے ہم اپنی شراکت داری کے ذریعے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کریں۔
جنوبی کوریائی صدر لی جے میونگ کے ساتھ مشترکہ پریس بیان میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج کے-پاپ اور کے-ڈراماز ہندوستان میں بہت زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کوریا میں بھی ہندوستانی سنیما اور ثقافت کی پہچان بڑھ رہی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ صدر میونگ بھی ہندوستانی سنیما کی تعریف کرتے ہیں۔ اس ثقافتی تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے ہم 2028 میں ’ہندوستان-جنوبی کوریا میتری اتسو‘ کا انعقاد کریں گے۔


































