
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج لوک سبھا میں جب خواتین ریزرویشن بل پر بحث ہو رہی تھی، تبھی راہل گاندھی نے کہہ دیا تھا کہ بل کو لوک سبھا میں ہی ہرائیں گے۔ ایوان زیریں میں مرکزی حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’’حکومت دلتوں کو ہندو کہتی ہے، لیکن ملک میں انھیں جگہ دینے سے انکار کرتی ہے۔ پہلا سچ تو یہ ہے کہ یہ خواتین ریزرویشن بل نہیں ہے۔ خواتین ریزرویشن بل تو 2023 میں پاس ہو چکا ہے۔ یہ بل ملک کا انتخابی نقشہ بدلنے کی کوشش ہے۔ یہ بل ایس سی-ایس ٹی اور او بی سی کے خلاف ہے، ان کے حقوق چھیننے کا ایجنڈا ہے۔‘‘





