
سرکاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس قانون کی دفعات مقررہ تاریخ سے نافذ ہوں گی، لیکن اس میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ پارلیمنٹ میں اسی موضوع پر بحث کے دوران ہی اس کے نفاذ کا اعلان کیوں کیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے اسے محض “تکنیکی وجوہات” قرار دیا ہے، مگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث اپوزیشن نے اس پر سوال اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔
یہ قانون، جسے 2023 میں “ناری شکتی وندن ایکٹ” کے طور پر منظور کیا گیا تھا، لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس کے نفاذ کو آئندہ مردم شماری اور اس کے بعد ہونے والی حدبندی کی کارروائی سے مشروط کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ لوک سبھا میں خواتین کو اس ریزرویشن کا فوری فائدہ نہیں مل سکے گا۔






