ترون کے قتل کے بعد اتم نگر کے کشیدہ حالات کے درمیان اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں، وی ایچ پی نے 1,700 ترشول تقسیم کیے

AhmadJunaidJ&K News urduApril 14, 2026360 Views


گراؤنڈ رپورٹ: دہلی کے اتم نگر میں وشو ہندو پریشد نے ’ترشول دکشا‘ پروگرام کے تحت 1,700 ترشول تقسیم کیے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کا منصوبہ پورے شہر میں 30,000 سے زائد ترشول تقسیم کرنے کا ہے۔ ترون قتل معاملے کے بعد اس علاقے میں کشیدہ حالات کے درمیان منعقد پروگرام میں اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں اور نابالغوں کو بھی ترشول دیے گئے۔

’ترشول دکشا‘ پروگرام کے دوران حلف لیتے وشو ہندو پریشد کے لیڈر اور ترون کمار کے اہل خانہ۔ (تمام تصویریں: انکت راج / دی وائر)

نئی دہلی: مغربی دہلی کے اتم نگر کے ہست سال واقع ایپا پارک میں اتوار (12 اپریل 2026) کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ذیلی تنظیم وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے نوجوانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر ترشول تقسیم کیے۔

وی ایچ پی نے اپنے یوتھ ونگ بجرنگ دل کے کارکنوں میں 1,700 ترشول بانٹے۔ تنظیم اسے ’ترشول دکشا‘ کہتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ پروگرام ’سنسکار، سیوا اور سُرکشا‘ کا عہد دلانے کے لیے ہوتا ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کے معنی کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتے ہیں۔

دی وائر سے بات چیت میں وی ایچ پی (اندرپرستھ) کےکے عہدیدار سنجیو کمار نے بتایا کہ اس طرح کے پروگرام پورے دہلی میں منعقد کرنے کی منصوبہ بندی ہے، جن کے تحت 30,000 سے زیادہ ترشول تقسیم کیے جانے ک امکان ہے۔

قابل غور ہے کہ ’ترشول دکشا‘ کا یہ پروگرام ایسے وقت میں ہوا، جب ایک مقامی مجرمانہ واقعہ پہلے ہی فرقہ وارانہ کشیدگی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایپا پارک اس مقام سے کچھ ہی فاصلے پر ہے، جہاں ہولی (4 مارچ) کے دن 26 سالہ ترون کمار کا قتل ہوا تھا۔

ایک معمولی تنازعہ سے شروع ہونے والا یہ واقعہ جلد ہی فرقہ وارانہ کشیدگی میں بدل گیا۔ قتل کا الزام ایک مسلم خاندان پر لگایا گیا ہے، جن کے یہاں پہلے نامعلوم افراد نے گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی، پھر میونسپل کارپوریشن کی بلڈوزر کارروائی ہوئی، اور اب ملزم خاندان علاقے سے نقل مکانی کر چکا ہے۔

ترون قتل کیس میں ملزم خاندان کا گھر۔ گلی کے باہر تعینات ایک خاتون پولیس اہلکار نے بتایا کہ واقعہ کے بعد سے پورے علاقے میں 24 گھنٹے پولیس تعینات رہتی ہے۔

جائےوقوع اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اب بھی بھاری پولیس فورس موجود ہے۔ گلی گلی میں بیریکیڈز لگے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ ہی فاصلے پر وی ایچ پی نے ترشول تقسیم کیے، اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں اور جذباتی طور پر لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی۔

جب دی وائر نے وی ایچ پی کے صوبائی صدر کپل کھنہ سے پروگرام کے مقام کے انتخاب پر سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اتم نگر کو اس لیے چنا گیا کیونکہ اس ضلع کی باری تھی، اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے۔‘

تاہم، وی ایچ پی کے اسٹیج پر مقتول ترون کمار کے والدین اور دادا بھی موجود تھے۔ والد میمراج اور دادا مان سنگھ نے بھی ترشول دکشا لی، یعنی انہیں بھی وی ایچ پی کی جانب سے ترشول فراہم کیا گیا۔ مان سنگھ نے وی ایچ پی کے اسٹیج سے خطاب بھی کیا۔

وی ایچ پی کے اسٹیج سے خطاب کرتے ترون کمار کے دادا۔

دی وائر سے بات چیت میں دونوں نے کہا کہ انہیں بجرنگ دل کا مکمل تعاون مل رہا ہے۔ انہوں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے مجرموں کو پھانسی دینے کی بات کہی اور یہ بھی کہا کہ اگر ممکن ہو تو ان کا ’انکاؤنٹر‘ کیا جائے۔

وی ایچ پی نے پروگرام کی پریس ریلیز میں ترون کمار کو ’جہادی حملے میں شہید‘ قرار دیا ہے۔

ترشول لینے والوں میں نابالغ بھی

’ترشول دکشا‘ پروگرام میں شامل ہوئے  نابالغ۔

ترشول لینے والوں میں کئی نابالغ بھی شامل تھے۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والے تقریباً دس سال کے رشبھ اپنے 11 سالہ بھائی کے ساتھ پروگرام میں پہنچے  تھے اور دونوں کے کندھوں پر ترشول لٹکے ہوئے تھے۔ دونوں بچوں نے بتایا کہ وہ دہلی کے اندرپرستھ علاقے کے رہنے والے ہیں۔ اسی طرح اتم نگر کے 12 سالہ پنکج نے بھی ترشول حاصل کیا۔

جب اس بارے میں دی وائر نے وی ایچ پی کے صوبائی صدر کپل کھنہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا،’ترشول کی دکشا آئین کے مطابق ہوتی ہے۔ ترشول صرف ایک علامت ہے، جو سیوا، سنسکار اور سرکشا کو ظاہر کرتی ہے۔‘

تاہم، پروگرام کے آخر میں اٹھائے گئے حلف میں’بھارت ہندو راشٹر ہے‘جیسے جملے شامل تھے، جو ہندوستانی آئین کے بنیادی جوہر سے متصادم ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اسی حلف میں’آئین کے تحفظ‘کی بات بھی دہرائی گئی۔

کھنہ نے’ترشول دکشا‘کا موازنہ اسکول ایڈمیشن سے کیا۔ ان کے مطابق، یہ بجرنگ دل میں شامل ہونے کا پہلا مرحلہ ہے، جہاں نوجوانوں کو قوم اور مذہب کی حفاظت کا عہد دلایا جاتا ہے۔

اس ترشول کو خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ اسلحہ ایکٹ کے دائرے میں نہ آئے۔ جون 2017 میں احمد آباد مررمیں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، وی ایچ پی کے اس وقت کے جنرل سکریٹری مہادیو دیسائی نے خود بتایا تھا کہ’ترشول کو ممنوعہ ہتھیاروں سے ایک سینٹی میٹر چھوٹا رکھا گیا ہے۔‘

اشتعال انگیز تقاریر اور بالواسطہ حملے

وی ایچ پی کے دہلی صوبائی وزیر سریندر گپتا نے ترون کو یاد کرتے ہوئے اسٹیج سے سخت لہجے میں کہا،’بھیڑ بنا کر گیدڑوں کا جھنڈ شیروں کے بچوں کو مارتا ہے۔ میں اس اسٹیج سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو نوجوان چلا گیا، کسی کی ماں نے دودھ نہیں پلایا کہ کوئی اکیلے اور نہتے آ کر اس سے لڑ لے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’ہندو کا مزاج امن کا ہے۔ وہ درختوں، پہاڑوں اور ندیوں کی پوجا کرتا ہے، یہاں تک کہ چیونٹیوں کو بھی آٹا کھلاتا ہے۔ لیکن تم اسی ہندو کو ڈرانا چاہتے ہو… وہ ہندو ڈرے گا نہیں ۔ اب ہندو اس ترشول کو، جو آج یہاں تقسیم کیا گیا ہے، عزم کے ساتھ ہاتھ میں لے کر کھڑا ہوگا۔‘

وی ایچ پی کے سریندرگپتا نے کہا،’حفاظت بھیک میں نہیں ملتی، حفاظت طاقت اور تنظیم سے حاصل ہوتی ہے۔‘

پروگرام کے دوران اسٹیج سے کی گئی تقاریر میں تیز اور جارحانہ لہجہ واضح طور پر سنائی دیا، جس میں کئی بار بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

گپتا نے اتم نگر کے’ہندو سماج‘کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ’جب سماج بیدار ہوتا ہے تو حالات بدلتے ہیں۔‘

انہوں نے ایک پرانے سیاسی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’جو لوگ حیدرآباد میں کھڑے ہو کر 15 منٹ کے لیے پولیس ہٹانے کی دھمکی دیتے تھے، آج وہی سکیورٹی کے لیے فریادکر رہے ہیں، اور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنا تہوار منانے کے لیے 15 منٹ کے لیے پولیس لگا دو۔ یہ ہندو سماج کی طاقت ہے۔‘

انہوں نے بغیر نام لیے کہا کہ’سالوں پہلے ان کے آبا واجداد یہاں آئے تھے، تب یہ علاقہ محفوظ تھا، اب غیر محفوظ ہو گیا ہے‘، اور دہلی کے تری نگر کی ایک مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کیسے’کچھ گھر مسلمانوں کو بیچنے کے بعد‘علاقے کا ماحول بدل گیا اور ہندوؤں کو نقل مکانی کا ڈر ستانے لگا۔ اس مبینہ کہانی کے ذریعے انہوں نے’نقل مکانی نہ کرنے‘اور’مقابلہ کرنے‘کا پیغام دیا۔

اسی سلسلے میں صوبائی صدر کپل کھنہ نے اسٹیج سے ترون کمار کو’قربانی دینے والا‘قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے بجرنگ دل کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’میرے بجرنگیوں کا پیغام ہے- مان جاؤ، ورنہ سدھار دوں گا۔‘

کھنہ نے ہدایتکار آدتیہ دھر کی فلم دھرندھر کا ذکر کرتے ہوئے ایک ایک ڈائیلاگ کا حوالہ دیا-’چھیڑو گے تو چھوڑیں گے نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اندرپرستھ (جس نام سے وی ایچ پی دہلی کو مخاطب کرتی ہے) کے بجرنگی’دھرم کےمخالفین‘کو یہی پیغام دے رہے ہیں-’چھیڑو گے تو چھوڑیں گے نہیں۔‘

بائیں سے ترون کے باپ، ماں، بجرنگ دل کے کنوینر جگجیت (گولڈی) اور مان سنگھ۔

اسی طرح صوبائی بجرنگ دل کنوینر جگجیت گولڈی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ’ایک دن کا عہد نہیں ہے‘، بلکہ جہاں جہاں ’قوم مخالف اور مذہب مخالف طاقتیں چیلنج دیں گی‘، وہاں ان سے نمٹنے اور فتح حاصل کرنے کا عزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہی عزم’لو جہاد‘،’لینڈ جہاد‘اور تبدیلی مذہب جیسے مسائل پر’فتح حاصل کرنے کی طاقت‘دیتا ہے۔

وی ایچ پی کے مرکزی معاون وزیر منوج ورما نے بجرنگ دل کے کارکنوں کو’سینک‘قرار دیتے ہوئے خطاب کیا۔ انہوں نے رام جنم بھومی تحریک میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے’اہم کردار‘کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’ہم نے تب سوگندھ کھائی تھی کہ مندر وہیں بنائیں گے۔ آج رام للا وہیں ہیں، جہاں وہ پہلے تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔‘

ورما نے مزید کہا،’آج کچھ لوگ نئی بابری بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی اوقات سمجھ لینی چاہیے۔ جو تھی، وہ تو نہیں رہی۔ اگر بنانے کی کوشش کرو گے تو تم بھی ہندوستان کی سرزمین پر نہیں رہو گے۔ صرف ایک ہی نعرہ رہے گا – جئے شری رام۔ اگر اس ملک کی زمین پر رہنا ہے تو اس قوم کے جذبات کے ساتھ چلنا ہوگا۔‘

بجرنگ دل کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’اس ملک میں رام کے اصولوں کو قائم کرنے کا کام بجرنگ دل کا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ’رام کو اپنا آئیڈیل‘مانتے ہیں اور ان کے اصولوں پر چلتے ہیں –’ہم راستہ پانے کے لیے سمندر کے سامنے ہاتھ جوڑنا بھی جانتے ہیں اور راستہ نہ ملنے پر کمان پر تیر چڑھا کر آگے بڑھنا بھی جانتے ہیں۔ ‘

اپنے خطاب میں ورما نے مہابھارت اور شری کرشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’ہمیں مہابھارت کو سمجھنا ہوگا، کرشن کے پیغام کو سمجھنا ہوگا۔ دھرم کے قیام کے لیے جو ضروری ہے، وہ کرنا ہی پڑے گا۔ ہم رام اور کرشن کی اولاد ہیں – اس لیے جو کرنا ہے، اس کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘

پولیس کی موجودگی اور کنٹرولڈ جارحیت‘

پروگرام کے اسٹیج پر لگے بڑے بینر پر لکھا تھا،’ہم بدھ کو بھی مانتے ہیں اور یدھ کو بھی مانتے ہیں‘– ایک طرف گوتم بدھ کی تصویر اور دوسری طرف سدرشن چکر۔ یہ علامتی امتزاج پورے پروگرام کی سمت اور پیغام کو تقریباً واضح کر دیتا ہے۔

پورے پروگرام کے دوران پولیس کی بھاری تعیناتی رہی۔ علاقے کو بیریکیڈ کر کے راستے تبدیل کیے گئے تھے۔ ایک فسادات کو کنٹرول کرنے والی گاڑی گیٹ کے ٹھیک سامنے کھڑی تھی۔ موقع پر موجود اے سی پی سنجیو کمار نے بتایا کہ تقریباً 100 پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستوں کے کچھ جوان بھی آئے ہیں۔

پروگرام ختم ہونے کے بعد نامہ نگار نے وی ایچ پی کے مغربی شعبے کے معاون وزیر سمن جھا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ترشول کی تقسیم صرف اسی پروگرام تک محدود نہیں رہے گی۔ اتم نگر کے ایک شخص، جو دیر سے پہنچے اور انہیں ترشول نہیں مل سکا، کو یقین دلایا گیا کہ فکر کی بات نہیں ہے، آنے والے دنوں میں مختلف مقامات پر ہونے والے ہنومان چالیسہ پاٹھ کے پروگراموں کے دوران بھی ترشول تقسیم کیے جائیں گے۔

ترشول دکشا پروگرام کے دوران حلف لیتے سمن جھا (نیلے دائرے میں)

جھا نے پولیس کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہاں اتنی بڑی تعداد میں ترشول بانٹنا ممکن نہیں تھا، اس لیے اس کو مختلف پروگراموں کے ذریعے جاری رکھا جائے گا۔

تقریر کے بعد کیا ہوا؟

تقاریر کے بعد پروگرام میں اجتماعی طور پر ترشول کے ساتھ حلف دلایا گیا۔ موجود لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں ترشول اٹھا کر اسٹیج سے دلائے گئے حلف کو دہرایا۔

حلف میں شرکاء نے ہنومان اور اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہوئے ہندو مذہب، ثقافت اور سماج کی حفاظت کا عہد کیا۔ ساتھ ہی آئین اور مادرِ وطن کی حفاظت کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ حلف میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ’بھارت کو ہندو راشٹر‘مانتے ہوئے آخری سانس تک اس کی حفاظت کریں گے اور اپنی زندگی کا مقصد’بھارت ماتا‘کی حفاظت، احترام اور تعمیر نو کے لیے وقف رکھیں گے۔

اس کے ساتھ ہی شرکاء نے بجرنگ دل کے رکن کے طور پر ملک اور مذہب کے تئیں وفادار رہنے اور بے لوث خدمت کرنے کا بھی عہد کیا۔

پروگرام کا اختتام اجتماعی ہنومان چالیسہ کے پاٹھ کے ساتھ ہوا، جس کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وی ایچ پی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ،’چند دن پہلے اسی اتم نگر میں اسی ایپا پارک میں ہنومان چالیسہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے! آج جب بجرنگیوں نے ہنومان چالیسہ  کے پاٹھ سے ماحول کو مسحور کر دیا! ‘

پروگرام ختم ہونے کے بعد لوٹتے کارکن۔

اسلحہ کی تقسیم کا سلسلہ

قابل ذکر ہے کہ دہلی میں ترشول کی تقسیم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دسمبر 2024 میں دہلی اسمبلی انتخابات سے عین پہلے وی ایچ پی نے طویل وقفے کے بعد اس مہم کو دوبارہ شروع کیا تھا۔ اس وقت تنظیم نے 200 سے زیادہ پروگراموں کے ذریعے 50,000 ترشول تقسیم کرنے کا ہدف رکھا تھا۔

جنوری 2025 میں ’شستر دکشا سماروہ‘کے تحت وی ایچ پی کی خواتین تنظیم’درگا واہنی‘نے 20,000 لڑکیوں کو کٹار تقسیم کی تھیں۔ اس سے پہلے 2012 یا 2015 کے بعد یہ سرگرمی تقریباً بند ہو گئی تھی، جسے اب دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع کیا گیا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...