
مونا جیسے کاریگر آسام سے آنے والے بانس کو مقامی بیوپاریوں سے مہنگے داموں خریدتے ہیں، جس سے ان کا منافع بہت کم رہ جاتا ہے۔
وہ بتاتی ہیں، ’’چھوٹی بانسری پانچ سے دس روپے میں اور بڑی تقریباً بیس روپے میں بکتی ہے۔‘‘ لیکن یہی بانسری بازار میں 50 روپے تک فروخت ہوتی ہے۔
مونا کے شوہر شکیل ہر ماہ امرتسر جا کر میلوں میں بانسری بیچتے ہیں مگر یہ آمدنی غیر مستقل ہے اور مالی مشکلات دور کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اکثر وہ تیار شدہ بانسریاں اسی بیوپاری کو کم قیمت پر واپس بیچ دیتے ہیں جس سے انہوں نے بانس خریدا ہوتا ہے۔
یوں وہ قرض اور انحصار کے ایک ایسے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں۔ وہ آج بھی 6.4 فیصد شرح سود پر لیے گئے قرض کی ہر ماہ ایک ہزار روپے قسط ادا کر رہے ہیں مگر مسلسل خسارے کے باعث قرض ابھی تک ختم نہیں ہو سکا۔
(بشکریہ ruralindiaonline.org)






