
پنجاب کے ایک چرچ کی علامتی تصویر۔ (تصویر: وکی میڈیا کامنز)
جالندھر: آندھرا پردیش کے ایک پادری سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے، جس میں کہا گیا تھا کہ ہندو، سکھ اور بدھ مت کے علاوہ کسی بھی مذہب میں جانے پر شیڈول کاسٹ (ایس سی) کا درجہ ختم سمجھا جائے گا، نے پورے ملک میں، خصوصی طور پر پنجاب کے دلتوں کے درمیان ایک حساس مسئلے کو چھیڑ دیا ہے۔
پنجاب، جہاں 2011 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً ایک تہائی (31.9 فیصد) آبادی درج فہرست ذاتوں پر مشتمل ہے، ذات پر مبنی امتیازی سلوک کی تاریخ رکھنے والی ریاست بھی ہے۔
چنتھاڑا آنند بنام ریاست آندھرا پردیش معاملے میں، پادری نے سپریم کورٹ سے ایس سی ایس ٹی ایکٹ 1989 کے تحت تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے تحفظ دینے سے انکار کے بعد پنجاب کے دلت عیسائیوں میں بڑے پیمانے پرتشویش پیدا ہو گئی ہے، جو بنیادی طور پر والمیکی، مذہبی سکھ اور اد-دھرمی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور ریاست کے بڑے شیڈولڈ کاسٹ گروپ ہیں۔
سال2011کی مردم شماری کے مطابق، پنجاب کی تقریباً 1.5 فیصد آبادی عیسائی ہے، اور اس کمیونٹی میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں جالندھر، ہوشیارپور، کپور تھلہ، امرتسر، ترن تارن، گورداسپور، فیروزپور اور پٹھان کوٹ اضلاع کے گاؤں، قصبوں اور شہروں میں آزادانہ مذہبی ادارے اور چرچ قائم ہو رہے ہیں۔
دلت عیسائی بنیادی طور پر دوآبہ علاقے میں رہتے ہیں، جہاں پنجاب کی کل دلت آبادی کا 32 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔ اس کے برعکس، ماجھا علاقے میں والمیکی اور مذہبی سکھ برادری کی بڑی آبادی ہے، جن میں عیسائی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔
حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ریاست کے موگا میں ایک ’بدلاؤ‘ ریلی کے دوران کہا تھا کہ بی جے پی پنجاب میں ایک نئے قانون کے ذریعے تبدیلی مذہب پر پابندی لگائے گی۔
اس تناظر میں، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دلت عیسائیوں کے درمیان خدشات کو مزید بڑھاتا ہے، حالانکہ پنجاب کی سیاست میں بی جے پی کا کردار محدود ہے۔
’دلت عیسائی محروم ہیں‘
پنجاب اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین پروفیسر ایمانوئل ناہر نے دی وائر سے بات چیت میں کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ پنجاب کے ان دلتوں کی سماجی و معاشی حالت پر بھی غور کرے جنہوں نے عیسائیت اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا،’ عدالت کو دلتوں اور مسلمانوں پر بنی رنگناتھ مشرا اور سچر کمیٹی کی رپورٹوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ دونوں کمیشنوں نے دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے ریزرویشن کی وکالت کی تھی۔ ‘
ناہر، جو اس وقت پٹیالہ میں واقع جگت گرو نانک دیو پنجاب اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی میں سماجی علوم و لبرل آرٹس فیکلٹی کے ڈین ہیں، ان کا کہناہے کہ دلت عیسائی ایک محروم طبقہ ہے اور شدید بحران میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا،’مذہبی سکھ اور روی داسیا کو 1956 میں درج فہرست ذات کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جب پارلیامنٹ نے پہلی ترمیم منظور کی تھی، اور 1990 میں دوسری ترمیم کے ذریعے بدھ مت والوں کو شامل کیا گیا۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وقت کے ساتھ جہاں اد-ھرمی، روی داسیا اور رامداسیا سکھ برادریاں ریزرویشن کے ذریعے آگے بڑھیں، وہیں والمیکی، عیسائی اور مسلمان، جو مذہب تبدیل کر چکے تھے، سماجی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی طور پر پسماندہ رہ گئے۔
وزیر داخلہ امت شاہ کے تبدیلی مذہب پر پابندی کے بیان پر انہوں نے کہا،’یہ افسوسناک ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ اگر وزیر داخلہ کو جبراً تبدیلی مذہب کا یقین ہے تو انہیں کارروائی کرنی چاہیے، لیکن انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ کتنے لوگوں نے دباؤ میں آ کر مذہب بدلا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’وزیر داخلہ کے طور پر وہ منی پور میں نسلی تشدد پر قابو نہیں پاسکے اور یہاں تبدیلی مذہب پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ پنجاب ایک ایسی ریاست ہے، جس نے کبھی ایسے جذبات کے سامنے سرینڈر نہیں کیا ہے۔‘
ناہر نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیامنٹ میں اٹھانے کے لیے اراکین پارلیامنٹ سے رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا،’میں صدر جمہوریہ سے بھی رابطہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں، تاکہ وہ ایسے معاملے میں مداخلت کریں جسے صرف بااثر طبقے کے ساتھ نظریاتی اختلافات کی وجہ سے طویل عرصے سے نظرانداز کیا گیا ہے۔‘
’دلت عیسائیوں کی حالت دیکھیں‘
پنجاب کرسچن موومنٹ کے صدر حامد مسیح نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو متنازعہ اور امتیازی قرار دیا۔ انہوں نے کہا،’عدالت مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندوستان کا اصل باشندہ نہیں مانتی، جبکہ وہ صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔‘
انہوں نے 1950 کے صدارتی آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ غیر ہندو دلتوں کو آئینی تحفظ سے باہر کرنے کی شروعات تھی۔
مسیح نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اس کا فیصلہ ذات کی بنیاد پر ہے یا مذہب کی بنیاد پر۔ انہوں نے کہا،’عدالت نے ذات پات کے نظام کو نظرانداز کیا، اور اپنی توجہ تبدیلی مذہب پر مرکوز رکھی۔‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ’اگر کوئی عیسائی ہندو مذہب اختیار کر لے تو کیا اسے پھر سے ہندوستانی مان لیا جائے گا؟‘
انہوں نے فیصلے کے وقت اور امت شاہ کے بیان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات سے قبل ووٹروں کوپولرائز کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا،’چاہے پنجاب ہو، جہاں اگلے سال کے آغاز میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، یا پھر چھ ریاستوں میں جاری انتخابات، بی جے پی کی کوشش فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے اور لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کی رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چرچ بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبردستی مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا،’صرف دلتوں کو ہی درج فہرست ذات کے تحت ریزرویشن کا فائدہ ملتا ہے۔ باقی، جن میں مسلمان اور عیسائی شامل ہیں، امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت میں عیسائیوں کے لیے نوکریوں کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے،’پنجاب کے دلت عیسائی یا تو نجی شعبے میں کام کر رہے ہیں یا یومیہ مزدور ہیں، جس سے ان کی معاشی ترقی کی کوئی امید نہیں ہے۔ چرچ میں کم از کم انہیں برابری اور عزت ملتی ہے، جو انہیں دیگر مذاہب میں نہیں ملتی۔‘
دلت عیسائیوں کے ساتھ امتیاز
پینڈو مزدور یونین کے صدر ترسیم پیٹر نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں، خصوصی طور پر پنجاب میں، دلتوں کے ساتھ ہر جگہ امتیاز ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا،’یہ واضح امتیاز ہے کہ پنجاب میں دلت سکھ، ہندو اور بدھ مت کے ماننے والوں کو ریزرویشن ملتا ہے، لیکن جو دلت عیسائیت اختیار کر لیتے ہیں، وہ صرف اقلیت ہونے کی وجہ سے غربت میں چلے جاتے ہیں۔‘
پنجاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیٹر نے کہا کہ پہلے عیسائی مشنریوں کو بین الاقوامی فنڈنگ ملتی تھی، لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے اسے روکنے کے بعد کچھ پادریوں نے آزاد ادارے قائم کر لیے۔
پیٹر نے کہا کہ پنجاب میں اہم اداروں میں انکور نروالا منسٹری، کھوجیوال منسٹری اور برجندر دیول منسٹری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’عیسائیوں کی اصل تعداد مردم شماری کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ہر ادارے میں تقریباً 95 فیصد پیروکار دلت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشحال چرچوں کے ماننے والے سماج کے کمزور طبقات سے آتے ہیں۔ فائدہ لوگوں کو نہیں بلکہ حکومت اور سیاستدانوں کو ہوتا ہے۔‘
اس سے پہلے پیٹر نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو لے کر ’ماس فوبیا‘کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا، ’اس کے پیچھے بی جے پی-آر ایس ایس اور گودی میڈیا کی تفرقہ پیدا کرنے والی سیاست ہے۔‘
ترن تارن کے پٹی قصبے کے جسبیر سندھو، جنہوں نے عیسائیت اختیار کی ہے، نے دی وائر سے کہا کہ چاہے دلت عیسائی بنیں یا اپنے اصل مذہب میں رہیں، ان کی معاشی حالت نہیں بدلتی۔ وہ کہتے ہیں،’حکومت امرت کال اور ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتی ہے، تو ہمارے ساتھ یہ امتیاز کیوں؟ انہیں ہماری تکلیف سمجھنی چاہیے۔‘
سندھو نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے وہ فکرمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سرحدی علاقوں میں سینکڑوں بے زمین مزدور ان کی طرح غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا،’اگر انہیں ریزرویشن اور سماج میں نمائندگی نہیں ملے گی، تو وہ کیسے آگے بڑھیں گے؟‘
سندھو نے پوچھا کہ ’بی جے پی نے مذہب تبدیل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ کیونکہ اس بات کا کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں ہے کہ پنجاب میں کتنے دلتوں نے مذہب تبدیل کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’بی جے پی جانتی ہے کہ اقلیتیں عموماً اس کی حمایت نہیں کرتیں۔ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے۔ شاید بی جے پی نہیں جانتی کہ پنجاب میں نفرت کا بیج نہیں پنپ سکتا۔ یہاں لوگ ہمیشہ ساتھ رہے ہیں، چاہے ذات یا مذہب کچھ بھی ہو۔‘
پنجاب میں بڑھتی ہوئی مذہبی مجالس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ تبدیلی مذہب ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، لیکن حقیقت میں یہاں مذہب تبدیل نہیں ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’زیادہ تر دلت چرچ جاتے ہیں، لیکن باضابطہ طور پر عیسائیت اختیار نہیں کرتے۔ جبکہ کچھ لوگ عیسائی بننے کے بعد بھی درج فہرست ذات کے فائد لے رہے ہیں۔‘
سندھو نے کہا کہ دلتوں کے لیے چرچ جانا برابری اور قبولیت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’چاہے دلت مذہب تبدیل کرے یا نہ کرے، اس کی زندگی اور جدوجہد نہیں بدلتی۔ ہماری حالت میں نہ بہتری آئی ہے، نہ ہماری تکلیف ختم ہوئی ہے۔‘
سپریم کورٹ میں زیر التوا درخواستیں
’دلت عیسائیوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دو‘ کے نعرے کے ساتھ 1976 اور 1985 کے فیصلوں کو چیلنج کرتے ہوئے تقریباً ایک درجن درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔ ان میں آئین (درج فہرست ذات) حکم، 1950 کی ایک شق کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ دلت عیسائیوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دیا جا سکے۔
نیشنل کونسل آف دلت کرسچینز، کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا اور نیشنل کونسل آف چرچز ان انڈیا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ان تمام درخواستوں کی مشترکہ سماعت کر رہا ہے۔
اب تک ان درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔
ان تنظیموں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 24 مارچ کا فیصلہ ایک انفرادی معاملے سے متعلق تھا، جس میں آندھرا پردیش کے باپٹلا ضلع میں ایک پادری پر مبینہ حملے کے بعد مظالم ایکٹ لاگو کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
دوسری طرف، دیگر درخواستوں میں آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت دلت عیسائیوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 25 ہندوستان میں سب کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔
ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ 1950 کا حکم آئین کی روح کے خلاف ہے، لیکن اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔
دریں اثنا، مرکزی حکومت نے اکتوبر 2022 میں سابق چیف جسٹس کے جی بالاکرشنن کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا، جو یہ جائزہ لے رہا ہے کہ کیا ہندو، سکھ اور بدھ مت کے علاوہ دیگر مذاہب اختیار کرنے والے دلتوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر عیسائیوں اور مسلمانوں کو۔
تاہم، ڈاکٹر امبیڈکر انوسوچت جاتی ادھیکاری منچ جیسے کچھ اداروں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دینے سے موجودہ مستحقین کے حقوق اور فوائد کمزور ہو سکتے ہیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





