الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب کو خوف اور تشدد سے پاک رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کچھ ایسا لکھ دیا ہے، جو تنازعہ کا سبب بن گیا ہے۔ پوسٹ میں جو الفاظ تحریر کیے گئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترنمول کانگریس خوف، تشدد، دھمکی اور لالچ کا استعمال انتخاب میں کرتی ہے، لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسا پہلی بار ہے جب الیکشن کمیشن نے کسی پارٹی کا نام لے کر اس طرح کا بیان جاری کیا ہے۔
دراصل الیکشن کمیشن نے 8 اپریل کی صبح ’ایکس‘ پر یہ پوسٹ جاری کی ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن کی ترنمول کانگریس کو دو ٹوک۔ مغربی بنگال میں اس بار انتخاب خوف سے پاک، تشدد سے پاک، دھمکی سے پاک، لالچ سے پاک، چھاپہ سے پاک، بوتھ و سورس جامنگ سے پاک ہو کر ہی رہیں گے۔‘‘ الیکشن کمیشن کا یہ بیان تب آیا جب ترنمول کانگریس کے ایک نمائندہ وفد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے دہلی میں ملاقات کی۔ اس وفد میں ڈیرک او برائن، مینکا گروسوامی، ساکیت گوکھلے اور ساگریکا گھوش شامل تھے۔ یہ وفد اپنی بات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھنا چاہتا تھا، لیکن اس ملاقات کو لے کر بھی تنازعہ سامنے آیا ہے۔
بہرحال، الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سوشل میڈیا پوسٹ پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کانگریس نے ایک ویڈیو جاری کر الیکشن کمیشن پر طنز کے کئی تیر چلائے ہیں اور سوالات کی بارش بھی کر دی ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ 2 پوائنٹس بھی پیش کیے گئے ہیں۔ پہلے پوائنٹ میں لکھا گیا ہے ’الیکشن کمیشن‘ اور اس کے سامنے کراس کا نشان ہے۔ دوسرے پوائنٹ میں ’بی جے پی کا پٹھو‘ لکھ کر اس کے سامنے درست کا نشان لگایا گیا ہے۔ یعنی کانگریس نے الیکشن کمیشن کو بی جے پی کا پٹھو قرار دے دیا ہے۔
کانگریس نے تقریباً ڈیڑھ منٹ کی جو ویڈیو پوسٹ کی ہے، اس میں الیکشن کمیشن کے خلاف سخت رخ اختیار کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں اینکر کہتا ہے کہ ’’یہ ٹوئٹ دیکھیے۔ ایسا نہیں لگتا کہ کسی ایک پارٹی کا ٹوئٹ ہے؟ لیکن ایسا ہے نہیں۔ یہ عظیم ’دو ٹوک‘ ٹوئٹ کرنے والا کوئی ٹرول اکاؤنٹ نہیں ہے۔ ہندوستان کے الیکشن کمیشن کا آفیشیل ہینڈل ہے۔‘‘ پھر طنزیہ انداز میں سوال کیا گیا ہے کہ ’’پہلے تو یہ بتائیے کہ ایسی باتیں برسرعام شیئر کرنی چاہئیں کیا؟ یہ الیکشن کمیشن کی زبان ہے؟ برسرعام ایک پارٹی کو دھمکی دیتے ہوئے؟ یعنی اب گیانیش کمار نے ایکٹنگ بھی چھوڑ دی ہے؟ اور ’اس بار انتخاب خوف، تشدد، دھمکی، لالچ کے بغیر ہوں گے‘ کا کیا مطلب ہے؟ اب تک کے سارے انتخابات میں آپ یہ سب ہونے دے رہے تھے؟‘‘ الیکشن کمیشن سے یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ ’’کیا یہی سب کر کے انتخاب جیتتی ہے بی جے پی؟ ’ووٹر کے بغیر‘ بھی جوڑ دیجیے نہ صاحب۔ 91 لاکھ نام تو کاٹ ہی دیا ووٹر لسٹ سے۔ ایک ہی آفس میں تو کام کرتے ہی ہیں، الیکشن کمیشن کے لیٹر پر بی جے پی کا اسٹامپ تھا، یاد تو ہوگا آپ کو؟ تو ہو سکتا ہے اس بار اکاؤنٹ سوئچ کرنا بھول گئے ہوں۔‘‘
الیکشن کمیشن کے ٹوئٹ پر فکر ظاہر کرتے ہوئے اینکر نے عام لوگوں سے کہا کہ ’’یہ جو ٹوئٹ ہے، بیداری نہیں، یاد دہانی ہے۔ کہ سسٹم چل رہا ہے، بس آپ سوال مت کیجیے۔ جائیے، ووٹ دیجیے۔ اگر آپ کا نام لسٹ میں ہے، امید کیجیے کہ آپ کا ووٹ چوری نہیں ہوگا۔ پورا سسٹم آن لائن شاپنگ جیسا لگنے لگا ہے۔ آپ آرڈر ڈالتے ہیں، پیمنٹ بھی ہو جاتا ہے، لیکن پروڈکٹ کب آئے گا، آئے گا بھی یا نہیں، یہ بھروسے پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ الیکشن کمیشن کے افسران پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ’’ان لوگوں پر کیا بھروسہ کریں اب؟‘‘ پھر چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جاتا ہے ’’گیانیش بابو! اتنی ہی ریڑھ کمزور ہے آپ کی تو ووٹنگ شوٹنگ کے پھیر میں بھی کیوں پڑ رہے ہیں؟ ملک کا پیسہ کیوں برباد کر رہے ہیں؟ سیدھے ریزلٹ ہی بتا دیجیے۔‘‘ آخر میں کہا جاتا ہے کہ ’’انتخاب سیاسی پارٹیوں کے درمیان لڑا جاتا ہے۔ ایک پارٹی بنام الیکشن کمیشن نہیں ہوتا۔ گیانیش کمار کا الیکشن کمیشن بی جے پی کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایک آئینی ادارہ، آئین کا ہی گلا گھونٹ رہا ہے۔ جمہوریت ’آئی سی یو‘ میں نہیں ہے، اس ٹوئٹ میں خود اپنی ’مسنگ رپورٹ‘ لکھوا رہی ہے۔ بے شرمی کی انتہا ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































