
وزیراعلیٰ پیما کھانڈو۔فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/پریما کھانڈوبی جے پی
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سوموار (6 اپریل) کو اروناچل پردیش حکومت کے خلاف وزیراعلیٰ پیما کھانڈو کے رشتہ داروں کی ملکیت والی کمپنیوں کو عوامی ٹھیکے دینے کے الزامات کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کوابتدائی جانچ کا حکم دیا ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتہ اور این وی انجاریا کی بنچ نے سی بی آئی کو 16 ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
لائیو لا کے مطابق، سی بی آئی کو 1 جنوری 2015 سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان دیے گئے ٹھیکوں کی جانچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ سی بی آئی کو اس مدت سے باہر کے ٹھیکوں کی جانچ کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے ریاست کے چیف سکریٹری کو ایک ہفتے کے اندر سی بی آئی کے ساتھ تال میل بنانے کے لیے ایک نوڈل افسر مقرر کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ حکم سیو مون ریجن فیڈریشن اور والنٹری اروناچل سینا نامی دو تنظیموں کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا گیا، جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ وزیراعلیٰ کے رشتہ داروں کو 1,270 کروڑ روپے کے ٹھیکے دیے گئے تھے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، عدالت نے سی بی آئی کو کھانڈو، ان کی اہلیہ، ان کے والد کی دوسری بیوی رنچن ڈریما اور ان کے بھتیجے تسیرنگ تاشی سے وابستہ کمپنیوں کو دیے گئے تمام ٹھیکوں کی جانچ کی اجازت دی ہے۔
شنوائی کے دوران بنچ نے تبصرہ کیا کہ یہ ایک قابل ذکر ’اتفاق‘ہے کہ ورک آرڈر اور ٹینڈر خاندان کے افراد کو دیے گئے۔
بنچ نے کہا،’یہ ایک قابل ذکر اتفاق ہے کہ ایک ہی ریاست میں اتنی بڑی تعداد میں ورک آرڈر اور ٹینڈر خاندان کے افراد کو دیے جاتے ہیں۔‘
معلوم ہو کہ گزشتہ جولائی میں اروناچل حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ کھانڈو کے رشتہ داروں سے متعلق کمپنیوں یا افراد کو دیے گئے 95 فیصد ٹھیکے’اوپن ٹینڈر‘کے عمل کے ذریعے دیے گئے تھے اور تکنیکی اور مالیاتی بولیوں کو مدعو کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد ہی دیے گئے تھے۔
ریاستی حکومت نے نامزد مستفید میں سے کسی کے بھی حق میں’من مانی‘ کرنے یا ’غیر مناسب جانبداری‘دکھانے سے انکار کیا تھا۔
اپوزیشن کا حملہ
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کانگریس نے کہا کہ ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘کا نعرہ’مکمل طور پر جھوٹا‘ثابت ہوا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ جئے رام رمیش نے کہا،’یہ تو صرف شروعات ہے۔ بی جے پی کے کئی دیگر وزرائے اعلیٰ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں- جن میں شمال-مشرق کے کم از کم ایک وزیراعلیٰ بھی شامل ہیں، جو جلد ہی سابق وزیراعلیٰ بننے والے ہیں۔‘
सुप्रीम कोर्ट ने हाल ही में CBI को अरुणाचल प्रदेश के मुख्यमंत्री के परिवार के सदस्यों को कथित रूप से दिए गए कॉन्ट्रैक्ट के मामले में प्रारंभिक जांच शुरू करने का निर्देश दिया है।
यह तो बस शुरुआत है। कई अन्य भाजपा मुख्यमंत्री भी इसी श्रेणी में आते हैं-जिसमें पूर्वोत्तर का कम से कम…
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) April 6, 2026
انہوں نے مزید کہا،’ نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ کا نعرہ مکمل طور پر جھوٹا ثابت ہو چکا ہے – جس کی سچائی اب سامنے آنےلگی ہے۔‘
غور طلب ہے کہ اس سے پہلے گزشتہ سال مرکزی حکومت نے وزراء کے لیے ضابطہ اخلاق کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ اور بی جے پی لیڈرپیما کھانڈو کے خلاف بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات کی جانچ نہیں کر سکتی۔
ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل)میں کھانڈو پر اپنے رشتہ داروں کو عوامی ٹھیکے دینے کے الزامات کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔






