لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی آج کیرلم میں انتخابی تشہیر کے دوران برسراقتدار طبقہ پر زوردار حملہ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ہفتہ کے روز الپوژا میں انھوں نے حکمراں اتحاد ایل ڈی ایف اور بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ملک کے دیگر حصوں میں اقلیتوں پر حملہ کرنے والی قوتوں سے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کی سانٹھ گانٹھ ہے۔
الپوژا میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بی جے پی اور ایل ڈی ایف کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ کا الزام دہرایا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران سبریمالہ معاملہ پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے ساتھ اسٹیج پر موجود جی سدھاکرن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی ایل ڈی ایف کے اندر گہری دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ واضح رہے کہ جی سُدھاکرن امبلپوژا حلقہ سے یو ڈی ایف کی حمایت سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے لوگوں کی جمع بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں برسوں تک کام کرنے والے افراد اس کی اقدار کو اپنا لیتے ہیں، اس لیے سُدھاکرن کا یہاں آنا محض موقع پرستی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایل ڈی ایف کی بنیادی سوچ بدل چکی ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق ’’ایل ڈی ایف کا مطلب اگرچہ بائیں بازو کا جمہوری محاذ ہے، لیکن اب اس میں بائیں بازو کی روح باقی نہیں رہی، اور انتخابات کے بعد صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایل ڈی ایف بظاہر کچھ اور نظر آتی ہے، لیکن اس کی اصل سمت کہیں اور سے طے ہو رہی ہے، جس کے باعث اس کے اپنے لیڈران اور کارکنان بھی بے چینی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اس اتحاد پر ایسی قوتوں کا اثر ہے جو فرقہ وارانہ سیاست کرتی ہیں، آئین کو تسلیم نہیں کرتیں اور معاشرے میں نفرت پھیلاتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیرلم میں بی جے پی، آر ایس ایس اور سی پی ایم کے درمیان روابط کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ایل ڈی ایف میں اس وقت 2 طرح کے لیڈران موجود ہیں، ایک وہ جو اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں اور بی جے پی-آر ایس ایس کی حمایت کی پروا نہیں کرتے، اور دوسرے وہ جو برسوں کی وابستگی کے بعد خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ دیگر ریاستوں میں اپنے خطاب میں مذہب اور مندروں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن کیرلم میں سبریمالہ جیسے حساس معاملے پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مودی روزانہ ان پر حملہ کرتے ہیں تو پھر کیرلم کے وزیر اعلیٰ اور ان کے خاندان پر خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ جب مودی کیرلم آتے ہیں تو وہ مذہبی معاملات پر بات نہیں کرتے کیونکہ وہ ایل ڈی ایف کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق مودی جانتے ہیں کہ ایل ڈی ایف قومی سطح پر ان کے لیے چیلنج نہیں بنے گا۔ آخر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ چھتیس گڑھ میں 2 ننوں پر حملہ ہوا، منی پور میں گرجا گھروں کو جلایا گیا، اور جو عناصر مسلمانوں، عیسائیوں و سکھوں پر حملے کر رہے ہیں، ان سے کیرلم کے وزیر اعلیٰ کی مبینہ ملی بھگت ہے۔




































