راجستھان میں سب انسپکٹر اور پلاٹون کمانڈر بھرتی امتحان سے متعلق سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے پہلے دیے گئے اپنے حکم میں تبدیلی کرتے ہوئے اب 700 سے زائد امیدواروں کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت واپس لے لی ہے۔ اس فیصلے سے بھرتی کے عمل میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ دراصل، پہلے عدالت نے 713 امیدواروں کو عارضی طور پر امتحان میں شامل ہونے کی اجازت دی تھی، لیکن بعد میں آر پی ایس سی کی دلیلیں سننے کے بعد حکم میں ترمیم کی گئی۔ اب صرف ایک امیدوار کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی بنچ، جس میں جسٹس دیپانکر دتہ اور ستیش چندر شرما شامل تھے، نے 2 اپریل کے اپنے حکم میں ترمیم کی۔ یہ سماعت چھٹی کے دن کی گئی تھی۔ پہلے دیے گئے حکم میں 713 امیدواروں کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب اسے محدود کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف درخواست گزار کو ہی راحت دی جائے گی۔
نئے حکم کے مطابق اب صرف سورج مل مینا کو ہی 5-6 اپریل کو ہونے والے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل عدالت نے مینا اور 712 دیگر امیدواروں کو بھی عارضی ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، آر پی ایس سی کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ عدالت کے سامنے تمام حقائق مکمل طور پر پیش نہیں کیے گئے تھے، جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔
قابل ذکر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے دیگر امیدواروں کے لیے بھی راستہ کھلا رکھا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جو امیدوار اس معاملے میں فریق نہیں ہیں، وہ راجستھان ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اگر ہائی کورٹ مستقبل میں ان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے اور دوبارہ امتحان کرانے کی ہدایت دیتی ہے، تو وہ اس میں شامل ہو سکیں گے۔
واضح رہے کہ یہ بھرتی امتحان پہلے بھی تنازعات میں رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آر پی ایس سی نے عمر میں کوئی رعایت دیے بغیر دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ لیا۔ اسی فیصلہ کے خلاف امیدواروں نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جس سے یہ پورا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ اس بھرتی امتحان کے لیے 7.70 لاکھ سے زیادہ امیدواروں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا براہ راست اثر بڑی تعداد میں امیدواروں پر پڑے گا۔ اب سب کی نظریں راجستھان ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































