سی بی ایس ای کے نئے نصاب پر تنازعہ، وزیراعلیٰ اسٹالن نے کہا ’غیر ہندی ریاستوں پر زبان مسلط کرنے کی ہورہی کوشش‘

AhmadJunaidJ&K News urduApril 4, 2026359 Views


اسٹالن کے مطابق ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینے کی آڑ میں این ڈی اے حکومت ایک مرکزی ایجنڈہ چلا رہی ہے جس کے تحت ہندی کو فروغ دیا جائے گا اور ملک کے لسانی ورثے کو منظم طریقے سے حاشئے پر پہنچا دیا جائے گا

<div class="paragraphs"><p>تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے سی بی ایس ای کے نئے نصاب پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اسے زبان تھوپنے کی دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ پالیسی ہندی کو فروغ دیتی ہے اور علاقائی زبانوں کو کمزور کرتی ہے۔ اسٹالن نے کہا کہ یہ فریم ورک وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتا ہے، غیر ہندی ریاستوں کے ساتھ تفریق کرتا ہے اور طلباء اور اساتذہ پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کے لسانی تنوع کا احترام کرے اور ریاستوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

بتادیں کہ سی بی ایس ای۔ 27-2026 تعلیمی سال سے مرحلہ وار طریقے سے سہ لسانی پالیسی نافذ کرنے جارہا ہے جس کی شروعات کلاس 6 سے ہوگی۔ اس پالیسی کے تحت طلباء کو ایک اضافی زبان سیکھنا ہوگا اور 3 میں سے کم از کم دو ہندوستانی زبانیں لازمی ہوں گی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں اسٹالن نے کہا کہ یہ کوئی عام تعلیمی اصلاح نہیں ہے بلکہ ایک تشویشناک اور جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے جو ہمارے دیرینہ اندیشوں کو درست کرتا ہے۔ ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینے کی آڑ میں این ڈی اے حکومت ایک مرکزی ایجنڈہ چلارہی ہے جس کے تحت ہندی کو فروغ دیا جائے گا اور ملک کے خوشحالی لسانی ورثے کو منظم طریقے سے حاشئے پر پہنچادیا جائے گا۔

تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ نے سہ لسانی فارمولے کو ہندی کو غیر ہندی لسانی ریاستوں میں پھیلانے کے لیے ایک خفیہ طریقہ کار کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ یہ پالیسی ڈھانچہ جاتی طور سے ہندی بولنے والے طلباء کو فائدہ پہنچاتی ہے جس سے غیرجانداری، انصاف پسندی، وفاقیت اور علاقائی مساوات متاثر ہوتے ہیں۔ اسٹالن نے سوال کیا کہ جہاں پالیسی عملی طور پر جنوبی ریاستوں کے طلبہ کے لیے ہندی کو لازمی بناتی ہے، کیا ہندی بولنے والی ریاستوں میں تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم یا یہاں تک کہ بنگالی اور مراٹھی زبانیں سیکھنا لازمی قرار دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے باہمی تعاون کا فقدان اس پالیسی کی یک طرفہ اور امتیازی نوعیت کو بے نقاب کرتا ہے۔

مرکزی حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہی مرکزی حکومت، جو کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن کے اسکولوں میں تمل کو لازمی نہیں بناپائی اور ضروری تمل اساتذہ کی بھرتی بھی نہیں کرسکی، اب ریاستوں کو ہندوستانی زبانوں کی تشہیر کا سبق پڑھارہی ہے۔ یہ عزم نہیں بلکہ صریحاً منافقت ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت تمل ناڈو اور دیگر ریاستوں کی طرف سے اٹھائے گئے جمہوری خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندی کو مسلط کرنے کی پابند دکھائی دیتی ہے۔ اسٹالن نے اسے تعاون پر مبنی وفاقیت کے اصولوں پر براہ راست حملہ اور کروڑوں ہندوستانیوں کی لسانی شناخت کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے تمل ناڈو میں اے آئی اے ڈی ایم کے اور اس کے این ڈی اے اتحادیوں سے بھی سوال کیا کہ آیا وہ اس مسلط کئے جانے کی حمایت کرتے ہیں یا طلباء کے حقوق، شناخت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...