
راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے اس نہایت حساس اور اہم مسئلے پر پارلیمنٹ میں حکومت سے سوال کیا، مگر جواب میں سنجیدہ غور و فکر کے بجائے محض بہانے، خود ستائی اور جواب دہی سے بچنے کی کوشش سامنے آئی۔ ان کے مطابق حکومت نے مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے نظرانداز کیا۔
انہوں نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طالب علم روہت ویمولا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کئی ہونہار طلبہ ہیں جو مختلف سماجی دباؤ، خاص طور پر ذات پات پر مبنی امتیاز کا شکار ہو کر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق انہوں نے پارلیمنٹ میں ذات اور خودکشی کے درمیان ممکنہ تعلق پر سوال اٹھایا، لیکن حکومت نے طلبہ کی خودکشیوں کی وجوہات میں ذات پات کے امتیاز کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔





