
عالمی توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کر رہے مغربی ایشیا کے تنازعے کے باعث گیس کی قلت کے درمیان ریستوراں اور ہوٹلوں کا بند ہونا یا مینو میں تبدیلی عام بات ہوگئی ہے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والے بحران کے اثرات ہندوستان میں مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ بحران صرف خام تیل کی قلت یا ایل پی جی گیس کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ہندوستان کی صنعتوں پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔
لکھنؤ کی چکن کاری صنعت
مغربی ایشیا میں جاری جنگ کا لکھنؤ کی مشہور چکن کاری صنعت پر براہ راست اثر پڑا ہے، خصوصی طور پر خلیجی ممالک اور مغربی ممالک کو ہونے والی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال نے تقریباً پانچ لاکھ افراد کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر چکن کاری کڑھائی اور ریڈی میڈ ملبوسات کے کاروبارسے وابستہ ہیں۔
صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق، لکھنؤ کی چکن کاری صنعت سالانہ تقریباً 550 کروڑ روپے کی ہے، جس میں ملکی تجارت اور برآمدات دونوں شامل ہیں۔ اس میں سے تقریباً 100 کروڑ روپے کی برآمدات خلیجی ممالک کو اور تقریباً 70 کروڑ روپے یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں کو ہوتی ہیں۔ تاہم، گزشتہ ایک ماہ سے برآمدات پوری طرح سے بند ہوگئی ہیں۔
صنعت سے وابستہ افراد نے اخبار کوبتایا کہ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف نے بھی برآمدات کو شدید متاثر کیا تھا، اور اب خلیجی جنگ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات طویل عرصے تک برقرار رہے تو چکن کاری صنعت کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
گیس بحران سے فیروزآباد کی شیشہ صنعت متاثر
ہندوستان کی ’گلاس سٹی‘کے نام سے معروف فیروزآباد کانچ صنعت بھی مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ وقت مینوفیکچرنگ کے عروج کا ہوتا ہے، لیکن بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ حالات میں ہزاروں یومیہ مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔
شیشہ سازی ایک انتہائی توانائی پر منحصر صنعت ہے۔ گیس سے چلنے والی بھٹیوں کو مسلسل 1000 ڈگری سیلسیس (1832 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ درجہ حرارت پر چلانا پڑتا ہے ،تاکہ شیشہ پگھلا رہے اور اس میں کسی قسم کی خرابی نہ آئے۔
ہندوستان میں چھوٹی -بڑی تمام صنعتیں گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ نئی دہلی تیل کا ذخیرہ تو رکھتا ہے، لیکن گیس کا نہیں۔ ایسی صورتحال میں جب سپلائی کم ہوتی ہے تو سب سے پہلے صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں کمی کی جاتی ہے تاکہ گھریلو صارفین متاثر نہ ہوں۔
کشمیر کی دستکاری صنعت متاثر
مغربی ایشیا میں جاری تنازعے کا اثر کشمیر پر بھی پڑ رہا ہے۔ اپنے اعلیٰ معیار کے ریشمی قالینوں اور پشمینہ مصنوعات کے لیے مشہور اس علاقے کی دستکاری صنعت اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
وی آن کی رپورٹ کے مطابق، خصوصی طور پرچین، متحدہ عرب امارات اور یورپ میں منعقد ہونے والی تین بڑی بین الاقوامی نمائشیں کشیدگی کے باعث یا تو منسوخ کر دی گئی ہیں یا ملتوی کر دی گئی ہیں۔ ان رکاوٹوں نے کاریگروں اور تاجروں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے، جس سے کاروباری مواقع اور برآمدات شدید طور پرمتاثر ہوئی ہیں۔
چیمبر آف کامرس کے صدر طارق گنی نے کہا،’مغربی ایشیا کا موجودہ تنازعہ کشمیر، خاص طور پر دستکاری صنعت پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ تقریباً 600 آرڈرز پہلے ہی رد ہو چکے ہیں۔ یہ وقت عام طور پر ہمارے لیے برآمدات کے عروج کا سیزن ہوتا ہے، جب کشمیری قالین دنیا بھر میں بھیجے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے مغربی ایشیا کی صورتحال نے سب کچھ متاثر کر دیا ہے۔ یورپ ہمارے سب سے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے اور ہمارے قالینوں کا بڑا حصہ بین الاقوامی سطح پر فروخت ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا،’ہم نے چیمبر آف کامرس سے لے کر ٹیکسٹائل وزارت تک متعلقہ حکام سے رابطہ کیا ہے، تاکہ ہمارے برآمد کنندگان اور ان قالینوں کو بنانے والے کاریگروں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔‘
رپورٹ کے مطابق، سال 2024-25 کے دوران کشمیر کی برآمدات 2,607 ملین روپے رہیں، جو 2022-23 میں درج 3,570 ملین روپے کے مقابلے میں گرواٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس خطے میں تقریباً 80,000 افراد قالین سازی سے وابستہ ہیں۔
چنڈی گڑھ کے ایم ایس ایم ای اور ہاسپیٹیلٹی سیکٹر پر اثرات
ایران پر امریکہ-اسرائیل کے حملوں کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خام مال کی بڑھتی قیمتیں، ایندھن کی لاگت میں اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹوں نے چنڈی گڑھ کے مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور ہاسپیٹیلٹی صنعت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے شہر کی سینکڑوں صنعتی اکائیوں میں استعمال ہونے والے دھات اور پلاسٹک جیسے اہم خام مال کی قیمتوں میں 10 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چنڈی گڑھ میں بڑی تعداد میں ایسی معاون اکائیاں موجود ہیں، جو علاقے کی بڑی صنعتوں کے لیے اسپیئر پارٹس اور ان پٹ کمپونینٹس تیار کرتی ہیں۔
چنڈی گڑھ انڈسٹریز چیمبر کے ترجمان اور ریلوے کوچ کے پرزے بنانے والے صنعتکار نوین منگلاانی نے صورتحال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا،’جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسٹیل جیسے خام مال کی قیمت میں کم از کم 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر وہ معاون اکائیاں ہیں، جو بڑی صنعتوں کے لیے ان پٹ تیار کرتی ہیں۔ زیادہ تر اکائیاں درمیانی اور طویل مدتی معاہدوں میں بندھی ہوتی ہیں، اس لیے وہ خام مال کی اچانک بڑھی لاگت کو صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے خود برداشت کر رہی ہیں۔ ریلوے، ٹریکٹر، آٹوموبائل وغیرہ کے لیے اسپیئر پارٹس بنانے والے مینوفیکچررز کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘
شہر میں ہاسپیٹیلٹی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں ہے۔ زیادہ تر ریستوران، کھانے پینے کے ادارے اور ہوٹل اپنے روزمرہ کے کام کے لیے کمرشل ایل پی جی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
ایک سینئر افسر نے اخبار کو تصدیق کی ہے کہ گیس ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمرشل صارفین کی کل طلب کا صرف 20 فیصد ہی پورا کریں۔ سپلائی میں اس کمی کے ساتھ ساتھ، مغربی ایشیا میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے کمرشل ایل پی جی سلنڈرز کی مؤثر قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کئی اداروں کو سخت اقدامات کرنے پڑے ہیں، جیسے مینو میں تبدیلی کرنا، کھانا پکانے کے متبادل طریقے اپنانا یا قیمتوں میں اضافہ کر کے لاگت صارفین پر منتقل کرنا۔
کوچی میں کروز جہازوں کی آمد و رفت میں 30 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ سے سیاحت متاثر
کیرالہ میں بین الاقوامی لگژری سیاحوں کے اہم داخلی دروازے کے طور پر پہچانا جانے والا کوچی اب سست روی کا شکار ہے۔ ٹائمز آف انڈیاکی رپورٹ کے مطابق، کوچین پورٹ پر آنے والے کروز جہازوں کی تعداد میں 30 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں جہاں 42 کروز جہاز آئے تھے، وہیں 2025-26 میں یہ تعداد گھٹ کر 29 رہ گئی۔
اس گراوٹ کی بڑی وجہ 2024 کے آخر سے بحیرہ احمر کے خطے میں بڑھتی ہوئی جیوپولیٹکل بے یقینی کو قرار دیا جا رہا ہے، جس نے بین الاقوامی کروز راستوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ نے سفر کو مزید متاثر کیا ہے۔
کروز جہازوں کے ذریعے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی کا براہ راست اثر مقامی سیاحتی نظام پر پڑا ہے، کیونکہ ایک لگژری جہاز میں 2,000 سے زائد مسافر آ سکتے ہیں۔ یہ سیاح عموماً الاپوزا کے ہاؤس بوٹ سیکٹر، مٹن چیری کے دستکاری فروشوں اور شہر بھر کے ٹیکسی آپریٹرز کے لیے فوری کاروبار پیدا کرتے ہیں۔
پیٹروکیمیکل سپلائی میں رکاوٹ سے کنڈوم انڈسٹری متاثر
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کا اثر ہندوستان کی کنڈوم بنانے والی صنعت پر بھی پڑنے لگا ہے۔ وی آن کی رپورٹ کے مطابق، پیٹروکیمیکل سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث ملک کی تقریباً 8,000 کروڑ روپے کی اس انڈسٹری پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ 860 ملین ڈالر سے زائد کے اس بازار میں ہر سال 400 کروڑ سے زیادہ کنڈوم تیار کیے جاتے ہیں، لیکن خام مال کی قلت اور بڑھتی لاگت اب پیداوار اور سپلائی کے لیے مسئلہ پیدا کررہی ہے۔
ایچ ایل ایل لائف کیئر لمیٹڈ، مین کائنڈ فارما لمیٹڈ اور کیوپڈ لمیٹڈ جیسی بڑی کمپنیاں اس صورتحال سے جوجھ رہی ہیں۔
کنڈوم کی تیاری بنیادی طور پر دو اہم اجزاء-سلی کون آئل اور امونیا-پر منحصر کرتی ہے۔ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا سلی کون آئل اس وقت کم دستیاب ہے، جس سے مارکیٹ میں بے یقینی کا ماحول ہے۔ وہیں، خام لیٹیکس کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری امونیا کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، جس سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، ایک کنڈوم بنانے والی کمپنی کے عہدیدار نے بتایا کہ پی وی سی فوائل، ایلومینیم فوائل اور پیکیجنگ مواد جیسے ان پٹس کی سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے پیداوار اور آرڈرز کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ علاقائی تنازع سے متعلق لاجسٹکس رکاوٹوں نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
عہدیدار نے اخبار کو بتایا،’امونیا کی قیمتوں میں 40-50 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، جو کنڈوم کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سلی کون آئل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے مارکیٹ میں بے یقینی کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ ‘






