
واشنگٹن میں سنیچر، 28 مارچ 2026 کو ’نو کنگز‘ احتجاجی مظاہرہ کے دوران مظاہرین لنکن میموریل کے سامنے ریلی نکالتے ہوئے۔ (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: امریکہ کے کئی شہروں میں ایک بار پھر ’نو کنگز‘ تحریک کے تحت بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ یہ مظاہرے امریکہ-اسرائیل کی اس مشترکہ فوجی کارروائی کے ایک ماہ بعد ہوئے، جو ایران کے خلاف شروع کی گئی تھی۔
الجزیرہ کے مطابق، سنیچر (28 مارچ) کو ہوئی یہ ریلیاں اور مارچ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے دوران ’نو کنگز‘ تحریک کا تیسرا بڑا مرحلہ ہیں۔ منتظمین کے مطابق، ملک کی تمام 50 ریاستوں میں 3,300 سے زیادہ پروگراموں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ نیویارک، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی جیسے بڑے شہروں میں بھاری بھیڑ دیکھنے کو ملی، جبکہ روم، پیرس اور برلن جیسے بین الاقوامی شہروں میں بھی متوازی پروگرام منعقد ہوئے۔
تاہم، اس بار تحریک کی حکمت عملی صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ منتظمین نے خاص طور پر ان علاقوں پر توجہ دی جنہیں عام طور پر قدامت پسند سمجھا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً دو تہائی شرکاء نے بڑے شہروں کے باہر ہونے والے پروگراموں میں حصہ لیا۔
’انڈیویزیبل‘نامی ترقی پسند تنظیم کی شریک بانی لیا گرین برگ کے مطابق،’اس بار سب سے بڑی بات صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ سڑکوں پر نکلے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں نکلے۔‘
اس تحریک کا کلیدی پروگرام مینیسوٹا ریاست کے منیاپولس-سینٹ پال علاقہ، جسے ’ٹوئن سٹیز‘ کہا جاتا ہے، میں منعقد ہوا۔ یہ علاقہ حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا مرکز رہا ہے۔
دسمبر میں شروع کیے گئے ’آپریشن میٹرو سرج‘ کے تحت 3,000 سے زیادہ وفاقی ایجنٹ یہاں تعینات کیے گئے تھے۔ ان ایجنٹوں پر الزام لگا کہ انہوں نے ملک بدری کی مہم کے دوران ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔
جنوری میں اس مہم کے دوران دو امریکی شہری (ایلیکس پریٹی اور رینی نکول گڈ) کی گولی لگنے سے موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ پھیل گیا اور اصلاحات کے مطالبہ نے زور پکڑ لیا۔ اس مہم کے خلاف درجنوں مقدمات بھی دائر کیے گئے، جس کے بعد فروری میں اسے ختم کر دیا گیا۔
سنیچر کے مظاہرے میں ان دونوں کی یاد میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام میں تقاریر، موسیقی کی پیشکشیں اور سماجی کارکنوں، مزدور رہنماؤں اور سیاستدانوں کی شرکت رہی۔
اس موقع پر ترقی پسند رہنما برنی سینڈرز نے لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ مشہور راک گلوکار بروس اسپرنگسٹین اور لوک گلوکارہ جون بایز نے پرفارم کیا۔ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے ریکارڈ شدہ پیغام کے ذریعے مظاہرین کا حوصلہ بڑھایا۔
انہوں نے کہا،’آپ کےحوصلے اور عزم نے ہم سب کو تحریک دی ہے۔ آپ نے پرامن احتجاج کی طاقت کو ثابت کیا ہے۔‘
واشنگٹن ڈی سی میں بھی مظاہرین لنکن میموریل اور واشنگٹن مونومنٹ کے اطراف جمع ہوئے اور ریلیاں نکالیں۔ لوگوں نے پلے کارڈز اٹھائے اور ٹرمپ انتظامیہ کی علامتوں کے پتلے بھی لہرائے۔
اس سے قبل جون اور اکتوبر میں ہونے والے ’نو کنگز‘ مظاہروں میں لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔ اکتوبر کے مظاہروں کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کیا تھا، جس میں وہ مظاہرین کا مذاق اڑاتے نظر آئے تھے۔
اس دوران امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی تیاریاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نشستیں بڑھانے کی امید رکھتی ہے۔
برنی سینڈرز نے مظاہرے کے دوران لوگوں سے انتخابات میں فعال شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’ہم اس ملک کو آمریت یا اشرافیہ کی حکمرانی کی طرف نہیں جانے دیں گے۔ امریکہ میں عوام ہی سب سے اوپر ہیں۔‘
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






