
صبرین پروین کے والد ایک ٹائر پنکچر کی دکان چلاتے ہیں اور اسی محنت مزدوری سے گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔ سادہ پس منظر سے تعلق رکھنے والی صبرین نے اپنی کامیابی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے گھنٹوں کے حساب سے نہیں بلکہ روزانہ اپنے لیے ایک ہدف مقرر کر کے پڑھائی کی۔ ان کے مطابق منظم انداز میں کی گئی محنت ہی اصل کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی اس کامیابی پر بے حد خوشی ہے اور وہ مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں تاکہ لوگوں کی خدمت کر سکیں۔ صبرین نے دیگر طلبہ کو بھی پیغام دیا کہ اگر وہ سنجیدگی سے اور صحیح حکمت عملی کے ساتھ پڑھائی کریں تو وہ بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔






