
گولپارہ کے علاقے سے 566 خاندانوں کی بے دخلی نے بھی تنازع کو بڑھایا، حالانکہ عدالت نے زبردستی کارروائی پر پابندی عائد کی تھی۔ اگرچہ انتخابی ضابطہ نافذ ہونے کے بعد شدت میں کمی آئی ہے، مگر سماجی تقسیم برقرار ہے۔ ایک حالیہ روڈ شو میں بی جے پی کارکنوں نے بلڈوزروں پر سوار ہو کر وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا، جو سیاسی علامت بن گیا۔ ریاست کی اقتصادی صورتحال بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ 2023-24 کے اقتصادی سروے کے مطابق تقریباً 10 لاکھ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں ہیں۔
ادھر، قبائلی طبقات میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے نئی ایس ٹی کیٹیگری بنانے کی تجویز نے پرانے قبائل میں عدم اطمینان پیدا کیا ہے، کیونکہ اس سے ریزرویشن کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ کاربی آنگلونگ ضلع میں حالیہ نسلی جھڑپوں نے صورتحال کی پیچیدگی کو مزید اجاگر کیا، جہاں زمین کے تنازع پر تشدد ہوا۔ مجموعی طور پر، عوامی سطح پر ایک بے چینی اور تبدیلی کی خواہش ضرور موجود ہے۔ مگر اصل سوال یہی ہے کہ کیا اپوزیشن اس احساس کو سیاسی کامیابی میں بدل سکتی ہے یا نہیں۔
(سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں، جو انسانی حقوق اور عالمی امور پر لکھتے ہیں)





