’ریمنڈ‘ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیہ کا 87 سال کی عمر میں انتقال

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 29, 2026358 Views


2015 میں وجے پت سنگھانیہ نے ریمنڈ گروپ میں اپنی پوری 37 فیصد حصہ داری بیٹے گوتم سنگھانیہ کو منتقل کر دی تھی۔ اس کے بعد سے کمپنی کی کمان مکمل طور پر گوتم کے ہاتھوں میں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وجے پت سنگھانیہ، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @SinghaniaGautam</p></div><div class="paragraphs"><p>وجے پت سنگھانیہ، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @SinghaniaGautam</p></div>

i

user

ملک کے معروف صنعتکار اور ریمنڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیہ کا ہفتے کی شام ممبئی میں 87 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کے اہل خانہ نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے بیٹے اور ریمنڈ گروپ کے موجودہ چیئرمین اور مینجنگ ڈائریکٹر گوتم سنگھانیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ معلومات شیئر کیں۔ ریمنڈ گروپ کے ترجمان کے مطابق، ان کا انتقال ممبئی میں ہوا اور ان کی آخری رسومات آج (29 مارچ) کو ادا کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ 2015 میں وجے پت سنگھانیہ نے ریمنڈ گروپ میں اپنی پوری 37 فیصد حصہ داری بیٹے گوتم سنگھانیہ کو منتقل کر دی تھی۔ اس کے بعد سے کمپنی کی کمان مکمل طور پر گوتم کے ہاتھوں میں ہے۔ وجے پت سنگھانیہ نے 1980 سے ریمنڈ گروپ کی قیادت سنبھالی اور تقریباً 20 سال تک چیئرمین کے طور پر کام کیا۔ سال 2000 تک انہوں نے کمپنی کو ملک کے معروف کپڑوں کے برانڈس میں شامل کر دیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وجے پت سنگھانیہ اپنے پیچھے تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کی جائیداد چھوڑ گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کمپنی کا بڑا حصہ اپنے بیٹے کے نام کر دیا تھا۔ 1991 کی معاشی اصلاحات سے پہلے ہی انہوں نے کمپنی کو مقابلے کے لیے اس طرح تیار کر لیا تھا کہ ریمنڈ بدلتی ہوئی مارکیٹ میں مضبوطی سے قائم رہی۔ چند سال قبل وجے پت سنگھانیہ اور گوتم سنگھانیہ کے درمیان جائیداد اور کمپنی کے حوالے سے قانونی تنازعہ بھی سامنے آیا تھا۔ حالانکہ بعد میں دونوں کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا اور معاملہ حل کر لیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ وجے پت سنگھانیہ کو پدم بھوشن سے نوازا گیا تھا۔ وہ ایک ماہر پائلٹ اور ایڈونچرر تھے۔ 2005 میں انہوں نے ’ہاٹ ایئر بیلون‘ کے ذریعے تقریباً 69000 فٹ کی بلندی تک پہنچ کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس سے قبل 1988 میں انہوں نے مائیکرو لائٹ طیارے کے ذریعے لندن سے نئی دہلی تک اکیلے پرواز بھر کر ریکارڈ بنایا تھا۔ ان کا انتقال ہندوستانی صنعتی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان تصور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تجارت میں کامیابی حاصل کی، بلکہ اپنی مہم جوئی سے بھی ایک الگ پہچان بنائی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...