ایران کے جوہری تونائی کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ (27 مارچ) کی دیر رات بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک بار پھر پروجیکٹائل سے حملہ ہوا ہے۔ 28 فروری سے ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے حالیہ تنازعہ کے دوران اس پلانٹ پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ انٹرنیشنل ایٹمک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے وارننگ دی ہے ہے کہ اب تک ان حملوں میں کوئی نقصان نہیں ہوا، لیکن بار بار جوہری تنصیبات پر حملے ہوتے رہے تو اس کا انجام بہت برا ہو سکتا ہے۔ تاہم حالیہ حملے میں کسی جانی نقصان، املاک کے نقصان یا کسی تکنیکی رکاوٹ کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دوسری جانب ایرانی ادارے نے اس کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بتایا کہ ایران نے اسے حملے کے بارے میں بتایا تھا۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایک بار پھر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کسی بھی ممکنہ ایٹمی حادثے سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ فوجی کنٹرول کی اپیل کی ہے۔ آئی اے ای اے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ایرانی افسران کے ساتھ تعاون کے ذریعے حفاظتی اقدامات کی تصدیق کر رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام ایٹمی مواد محفوظ رہیں۔
یہ تازہ حملے فوجی کشیدگی سے متاثرہ علاقوں میں جوہری اور صنعتی تنصیبات کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ حالانکہ ’خونڈاب ہیوی واٹر پلانٹ‘ اور ’خوزستان اسٹیل فیکٹری‘ دونوں محفوظ ہیں، لیکن ماہرین نے وارننگ دی ہے کہ اگر ریڈیو ایکٹیو مواد والی تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈم (ایم ڈی اے) اور اسرائیلی پولیس نے اطلاع دی ہے کہ ایران سے داغے گئے ایک میزائل کے نتیجے میں اسرائیل کے وسطی شہر تل ابیب میں ایک 60 سالہ شخص کی موت ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایک پھیلنے والے ’کلسٹر میونیشن‘ میزائل سے متعلق تھا، جس نے جمعہ کی رات (مقامی وقت کے مطابق) تل ابیب میٹروپولیٹن ایریا میں کئی جگہوں پر حملہ کیا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص ایک کنسٹرکشن ورکر تھا، جو میزائل سے نکلنے والے چھروں کی زد میں آ گیا کیونکہ میزائل اس کے بالکل قریب گرا تھا۔ ایم ڈی اے نے یہ بھی بتایا کہ اس حملے میں 2 افراد معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































