
پون کھیڑا نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بعد تیل کمپنیاں خسارے کا سامنا کر رہی تھیں اور حکومت نے تاخیر سے ہی سہی، لیکن اس بوجھ کا ایک حصہ بانٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام کو عوامی ریلیف کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ زمینی سطح پر صارفین کو کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔
کانگریس نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کو حقیقی راحت دینے کے بجائے محض سرخیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق اگر حکومت واقعی عوام کے مفاد میں قدم اٹھانا چاہتی ہے تو اسے ایندھن کی قیمتوں میں براہ راست کمی کرنی چاہیے تاکہ عام آدمی کو فوری فائدہ پہنچ سکے۔






