
بتایا جارہا ہے کہ کئی مسافروں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ جو لوگ بس کے باہر کھڑے تھے وہ بچ گئے لیکن ان کے اپنے رشتہ دار بس کے اندر ہی ڈوب گئے جس سے موقعہ واردات پر ماحول انتہائی المناک ہو گیا۔ واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمٰن نے فوری طور پر حکام سے رابطہ کیا، معلومات حاصل کی اور حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا۔





