
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ صرف ایسے اقدامات ہیں جو ممکنہ طور پر بات چیت کے لیے فضا ہموار کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ یہ کوششیں جاری تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
رضا امیری مقدم نے موجودہ کشیدگی کو امریکہ کی وعدہ خلافی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ پہلے بھی بات چیت کی جو کوششیں ہوئیں، انہیں واشنگٹن کی جانب سے نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث حالات بگڑتے ہوئے جنگ تک جا پہنچے۔






