ڈنمارک میں منگل کے روز عام انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل انجام پایا۔ اس انتخاب میں وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ انتخاب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکی کے بعد ہو رہے ہیں، اس لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس انتخاب میں تقریباً 43 لاکھ ووٹرس ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ڈنمارک میں پارلیمنٹ کی مدت کار 4 سالوں کی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم فریڈرکسن نے گزشتہ مہینے وقت سے قبل عام انتخاب کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مانا جا رہا ہے کہ گرین لینڈ بحران کے دوران ان کی مضبوط قیادت والی شبیہ کا فائدہ اٹھانے کے مقصد سے انھوں نے طے مدت سے قبل انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گرینڈ لینڈ تنازعہ کے دوران وزیر اعظم فریڈرکسن نے امریکی دباؤ میں جھکنے سے انکار کر دیا تھا، جس سے گرین لینڈ اور ڈنمارک میں فریڈرکسن کی مقبولیت میں اچھال آیا ہے۔ ڈنمارک، جو یوروپی یونین اور ناٹو کا رکن ہے، وہاں یہ انتخاب سیاسی نظریہ سے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ڈنمارک میں اکتوبر میں عام انتخاب مجوزہ تھے، لیکن یوکرین جنگ اور نورڈ اسٹریم پائپ لائن کے نقصان پہنچنے پر جس مضبوطی سے وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے اپنے ملک کا موقف سامنے رکھا، اس سے فریڈرکسن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، جس کے بعد فریڈرکسن حکومت نے وقت سے قبل انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا۔ ویسے ڈنمارک کے انتخاب میں بڑھتی مہنگائی اور عدم مساوات بھی اہم ایشوز ہیں۔ وزیر اعظم فریڈرکسن کو موجودہ وزیر دفاع اور سنٹر-رائٹ لبرل پارٹی کے لیڈر ٹروئلس پالسن سے سخت چیلنج مل سکتا ہے۔ ساتھ ہی لبرل الائنس کے لیڈر الیکس ونوپسلاگ بھی مقبول امیدوار ہیں۔
جہاں تک گرین لینڈ تنازعہ کا سوال ہے، یہ ڈنمارک کے ماتھت ایک خود مختار خطہ ہے اور اسٹریٹجک طور سے بے حد اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سیکورٹی کے لیے گرینڈ لینڈ بہت اہم ہے۔ ان کے مطابق یہاں سے میزائل ڈیفنس سسٹم کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ روس اور چین اس خطہ میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے انھوں نے ساتی ممالک پر دباؤ بنانے اور گرین لینڈ پر قبضہ کی دھمکی دی تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































