خواب سے انحصار تک، ہندوستان کی پالیسیوں کا بدلتا رخ…گردیپ سنگھ سپل

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 22, 2026361 Views


سن 2014 سے اب تک تقریباً 3.2 لاکھ کروڑ روپے تیل بانڈ کے طور پر ادا کیے گئے، جبکہ اسی مدت میں پٹرولیم ٹیکس کی مد میں تقریباً 44 لاکھ کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ یعنی تیل بانڈ کی ادائیگی کل آمدنی کا صرف 7 فیصد حصہ تھی، جبکہ عوام پر ٹیکس کا بوجھ کئی گنا بڑھا دیا گیا۔

مئی 2014 میں جب مودی حکومت آئی، اس وقت خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل تھی۔ چند ہی مہینوں میں یہ قیمت گر کر 28 ڈالر تک پہنچ گئی، جو 74 فیصد کمی تھی۔

یہ ہندوستان جیسے درآمدی ملک کے لیے ایک بڑا موقع تھا کہ عوام کو راحت دی جائے۔ مگر اس کے برعکس، حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں بھاری اضافہ کر دیا۔ پٹرول پر 350 فیصد اور ڈیزل پر 380 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ صارفین کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔

کووڈ-19 کے دوران جب تیل کی قیمت 20 ڈالر سے بھی کم ہو گئی، تب بھی قیمتوں میں کمی کے بجائے ٹیکس بڑھایا گیا۔ ایک ہی دن میں پٹرول پر 10 روپے اور ڈیزل پر 13 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ نتیجتاً حکومت کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا، مگر عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...