
دوسری جانب بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے اقدام کی حمایت کی ہے اور ریاستی حکومت پر انتخابی بے ضابطگیوں سے توجہ ہٹانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے مطابق ایسے اقدامات ایک ایسے صوبے میں ضروری ہیں جہاں انتخابی تشدد کی تاریخ رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ مرکز اور ریاست کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ اس اقدام سے نئے افسران کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ بھی متوقع ہے۔
آخرکار عوام کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ کیا یہ انتظامی تبدیلیاں انتخابی عمل کو زیادہ شفاف اور پرامن بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔






