’میں نے ہمیشہ کہا کہ گیس ٹھکانوں کو نشانہ مت بنانا‘، ایرانی گیس فیلڈ پر حملہ سے قطر انرجی کے چیف سخت ناراض

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 21, 2026364 Views


سرکاری تیل اور گیس کمپنی ’قطر انرجی‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سعد الکعبی کا کہنا ہے کہ ’’ایران کے حملے سے اتنا نقصان ہوا ہے جسے ٹھیک کرنے میں 3 سے 5 سال کا وقت لگ سکتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی</p></div>

i

user

اسرائیل نے امریکہ کی مدد سے بدھ (18 مارچ) کی رات دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ ’ساؤتھ پارس‘ پر حملہ کر ایران کو آگ بگولہ کر دیا۔ جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران نے قطر، سعودی عرب، یو اے ای اور کویت کے تیل اور گیس کے ٹھکانوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان قطر کو ہوا ہے۔ سرکاری تیل اور گیس کمپنی ’قطر انرجی‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سعد الکعبی کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسلسل اس حوالے سے امریکہ کو خبردار کیا تھا۔

’ساؤتھ پارس‘ پر حملے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ایران کے میزائلوں نے قطر کے ’راس لفان‘ علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ریفائنری کی اہم ٹھکانے موجود ہیں۔ قطر کی سرکاری گیس کمپنی کے مطابق ایران کے حملے سے سمندری راستے سے گیس فراہم کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے گیس سسٹم کو بھاری نقصان پہہنچا ہے۔ اس کے سربراہ الکعبی جو ملک کے وزیر توانائی بھی ہیں، نے کہا کہ ’’ایران کے حملے سے اتنا نقصان ہوا ہے جسے ٹھیک کرنے میں 3 سے 5 سال کا وقت لگ سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں نے پہلے ہی حکام اور ایگزیکٹیوز کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے تیل-گیس ٹھکانوں پر حملہ ہوتا ہے تو ہمیں ایسے خطرے جھیلنے پڑ سکتے ہیں۔‘‘

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں سعد الکعبی نے کہا کہ ’’میں ہمیشہ خبردار کرتا رہا، ہمارے ساتھ شراکت داری کرنے والی تیل اور گیس کمپنیوں کے عہدیداران سے بات کرتا رہا، امریکی وزیر توانائی سے بات کرتا رہا، تاکہ انہیں اس نتیجے کے بارے میں آگاہ کر سکوں کہ یہ ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ قطر انرجی کے شراکت داروں میں ’ایکسن موبل‘ اور ’ کونوکو فلپس‘ جیسی بڑی امریکی توانائی کمپنیاں شامل ہیں۔

سعد الکعبی نے کہا کہ امریکہ اور اس کی کمپنیوں کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اگر ایران کے گیس فیلڈ پر حملہ ہوا تو وہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔ سعد الکعبی کے مطابق انہیں خطرے کا علم تھا، اور میں انہیں تقریباً روزانہ یاد دلاتا تھا اور ان سے کہتا تھا کہ ہمیں تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں سے ہر ممکن بچنے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر روجرس نے ’رائٹرز‘ سے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ اور ان کی پوری انرجی ٹیم اس حقیقت سے واقف تھی کہ ایران میں جاری آپریشن کے دوران تیل اور گیس کی سپلائی میں کچھ وقت کے لیے رکاوٹیں آئیں گی۔ ہمیں ان رکاوٹوں کا پہلے سے اندازہ تھا جس کے لیے ہم نے منصوبہ بندی کی تھی۔‘‘ ’کونوکو فلپس‘ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’’ہم اپنی طویل مدتی شراکت داری کے تئیں مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ قطر انرجی کے ساتھ مل کر حالات کو دوبارہ بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل کی 3 ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں نے ٹینکروں، ریفائنریوں اور توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس میں اب تک سب سے بڑا اثر ’قطر انرجی‘ کے ’راس لفان‘ پر پڑا ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کمپلیکس ہے۔ الکعبی نے کہا کہ 26 ارب ڈالر کی لاگت سے بنے ان پلانٹس کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے یورپ اور ایشیا کو ایل این جی کی سپلائی 5 سال تک متاثر ہو سکتی ہے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...