
یہ بھی تشویشناک ہے کہ شہر کے تمام 32 مانیٹرنگ اسٹیشنز پر آلودگی کی سطح ڈبلیو ایچ او کے مقررہ معیار 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے کہیں زیادہ ہے، جو عوامی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، نیشنل کلین ایئر پروگرام (این سی اے پی) کے تحت مختص فنڈز پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس پروگرام کے لیے 19,614 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 11,213 کروڑ روپے جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود آلودگی کی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نہ آنے پر اجئے ماکن نے سوال کیا ہے کہ آخر یہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔





