
رپورٹ کے مطابق اس مرکز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نہ صرف قطر بلکہ پوری دنیا کے لیے گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ راس لفان ایل این جی سپلائی چین کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ اس ہب میں کسی بھی سطح کی بندش عالمی منڈی میں گیس کی دستیابی کو براہ راست متاثر کرتی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ایشیائی ممالک میں زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہر ہفتے بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سڈنی جیسے بڑے شہر کو ایک سال تک فراہم کی جانے والی توانائی کے برابر کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بحران کی شدت کس حد تک بڑھ سکتی ہے۔






