اسرائیل کے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مزید ایک سرکردہ لیڈر کی فضائی حملے میں موت ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق منگل کی شب کیے گئے حملے میں انٹیلی جنس یعنی محکمہ خفیہ کے وزیر اسماعیل خطیب ہلاک ہو گئے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو علی لاریجانی اور جنرل غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کے بعد یہ ایران کے لیے مسلسل تیسرا بڑا دھچکا ہوگا۔ تاہم ایران نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے دفتر نے بیان جاری کر کے یہ اطلاع دی ہے۔ کاٹز نے کہا ہے کہ بدھ کے روز ’بڑا سرپرائز‘ ملنے کی توقع ہے۔ میڈیا ادارہ ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق کاٹز کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب گزشتہ رات تہران میں ایک اسرائیلی فضائی حملہ میں مارے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج مزید ’بڑا سرپرائز‘ متوقع ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک سیکورٹی جائزہ اجلاس کے دوران کہی۔
کاٹز کے حوالہ سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’’آج کے دن تمام محاذوں پر بڑے سرپرائز ملنے کی امید ہے، جس سے ایران اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ہماری لڑائی مزید تیز ہو جائے گی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ایران میں حملوں کی شدت بڑھ رہی ہے۔ ایران کے انٹیلی جنس وزیر خطیب کو بھی گزشتہ رات ہلاک کر دیا گیا۔‘‘ کاٹز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے آئی ڈی ایف کو کسی بھی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی ہے، جس کے لیے اب کسی اضافی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے ذرائع کے حوالہ سے خطیب کی ہلاکت کی خبر دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ فضائی حملوں میں ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس آپریشن کے نتائج کا ابھی جائزہ لیا جا رہا تھا اور یہ واضح نہیں تھا کہ ہدف مکمل طور پر حاصل ہوا یا نہیں۔ ایک دن قبل اسرائیل نے ایران کے سیکورٹی عہدیدار علی لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی نشانہ بنایا تھا، جن کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی کو ملک کے طاقتور ترین افراد میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اسٹریٹجک مشیر بھی رہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ لاریجانی پر جنوری میں امریکہ نے ملک گیر مظاہروں کو پرتشدد طریقے سے دبانے میں کردار کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
دوسری طرف پاسداران انقلاب کی بسیج ملیشیا کے سربراہ جنرل غلام رضا سلیمانی بھی منگل کو اسرائیلی حملہ میں مارے گئے۔ ان پر بھی امریکہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک کی جانب سے برسوں سے پابندیاں عائد تھیں۔ ایران نے ان دونوں لیڈران کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ جنوری میں 47 سالہ مذہبی نظام کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو کچلنے میں دونوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
دونوں کی ہلاکت کے بعد پاسداران انقلاب نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے وسطی اسرائیل کو ’ملٹیپل وارہیڈ‘ میزائلوں سے نشانہ بنایا، جو میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے اور رڈار کو دھوکہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ لاریجانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے خرم شہر-4 اور قادر میزائل داغے گئے۔ دوسری جانب اسرائیل نے بتایا کہ تل ابیب کے مشرق میں واقع رمات گن میں ایک حملہ میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس دوران بغداد میں امریکی سفارت خانہ پر بدھ کی صبح مسلسل دوسرے دن بھی حملہ ہوا۔ 2 عراقی سیکورٹی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نواز ملیشیا گروپ عراق میں امریکی ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ منگل کے روز بغداد میں سفارت خانہ کے احاطے میں ایک ڈرون بھی گرایا گیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































