
علاقے میں تعینات پولیس فورس۔ (تصویر: شروتی شرما/دی وائر)
نئی دہلی: مغربی دہلی کے اتم نگر علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی، دھمکیوں اور نفرت انگیز پوسٹروں کے باعث عیدالفطر سے پہلے مسلم خاندانوں میں خوف وہراس کا ماحول ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق، ہستسال گاؤں میں رہنے والے کئی مسلم خاندانوں نے منگل (17 مارچ) کو بتایا کہ وہ عیدالفطر سے پہلے حالات معمول پر آنے تک علاقہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہولی کے تہوار کے دوران دو برادریوں کے خاندانوں کے درمیان جھگڑے میں ایک نوجوان کی موت ہو گئی، جس کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے۔
وہیں، اس معاملے میں دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے بعد سے یہاں کے لوگوں کے ساتھ میٹنگ کر رہی ہے، لیکن کسی نے بھی انہیں اس طرح کی کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔
علاقے کے ’میاں جی‘ ریستوراں کے مالک 55 سالہ جمیل احمد نے اخبار کو بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان پچاس سال سے زیادہ عرصے سے اتم نگر میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’میرے تین بچے اور سات پوتے پوتیاں ہیں۔ ہم سب خوفزدہ ہیں کیونکہ ہم نے لیڈروں کو ’خون کی ہولی‘کھیلنے کی بات کرتے سنا ہے۔ ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔‘
قابل ذکر ہے کہ ہولی کے دوران 4 مارچ کو دو برادریوں کے دو خاندانوں کے درمیان پانی کے غبارے کو لے کر ہوئے جھگڑے میں 26 سالہ نوجوان ترون شدید زخمی ہو گئے تھے، جن کی بعد میں موت ہو گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں 14 افراد کو گرفتار کیا ہے اور دو نابالغوں کو حراست میں لیا ہے۔
اب اس واقعہ کے تقریباً دو ہفتے بعد بھی دونوں برادریوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، ساتھ ہی احتجاج اور اشتعال انگیز تقاریر بھی روزمرہ کا حصہ بن گئی ہیں، جیسا کہ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے۔
جمیل احمد نے بتایا، ’سوگ کی تقریبات کے دوران آنے والے لیڈروں نے ہمیں دھمکایا۔ یہ قتل فرقہ وارانہ معاملہ نہیں ہے۔ وہ پہلے بھی آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہم سب کو ان (ملزمان) کے گناہوں کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ہم پُرامن طریقے سے رہ رہے ہیں، لیکن باہر کے لوگ ہمیں دھمکا رہے ہیں۔ ہم ویڈیو دیکھتے ہیں اور وہ خوفناک ہوتےہیں۔ میرے بچے بار بار کہتے ہیں کہ ہمیں عید کے لیے نکلنا ہوگا۔ ہمارے گھر کے قریب کرائے پر رہنے والے دو خاندان پہلے ہی جا چکے ہیں۔‘
اسی علاقے کی ایک رہائشی 22 سالہ فرزانہ نے اخبار کو بتایا، ’میں یہاں 20 سال سے زیادہ عرصے سے رہ رہی ہوں، لیکن یہ عجیب لگتا ہے جب پڑوسی مجھ سے اچھی طرح بات نہیں کرتے۔ ہم یہاں سے جانا نہیں چاہتے، لیکن عید ہمارے لیے خاص ہے اور ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ ہر روز تشدد اور حملوں کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ ہم تشدد کی حمایت نہیں کرتے اور اس معاملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم صرف چند دنوں کے لیے یہاں سے جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘
ایک اور رہائشی، 47 سالہ بلال راجپوت، جو ایک وکیل ہیں اور جن کا خاندان 1970 کی دہائی سے اس علاقے میں رہ رہا ہے، کہتے ہیں، ’میرے پڑوسی، جنہیں میرا خاندان پچاس سال سے زیادہ عرصے سے جانتا ہے، نے بتایا کہ ان کے دو کرایہ دار جا چکے ہیں۔ مجھے ایک دکاندار کے بارے میں بھی معلوم ہے جو چلا گیا ہے۔ اگرچہ ہم یہاں سے جانے کے بارے میں نہیں سوچ رہے، لیکن ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’میٹرو اسٹیشن، پارکوں اور دیگر عوامی مقامات کے باہر احتجاج ہو رہے ہیں۔ ہر جگہ بیریکیڈز لگے ہوئے ہیں۔ میرے ایک پڑوسی، جو ہندو ہیں، نے مجھے محفوظ رہنے کو کہا کیونکہ وہ بھی خوفزدہ ہیں۔ ہم سب خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘
دہلی پولیس نے کہا کہ انہوں نے مناسب انتظامات کیے ہیں اور لوگوں کے ساتھ میٹنگیں بھی کی ہیں۔ دوارکا کے پولیس ڈپٹی کمشنر کشل پال سنگھ نے رہائشیوں سے علاقے میں ہی رہنے کی اپیل کی اور تہوار کے لیے مناسب سکیورٹی کا یقین دلایا۔
انہوں نے کہا،’ہم نے اشتعال انگیز تقاریر اور ویڈیو کو ہٹانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور انسٹاگرام کو 22 سے زیادہ درخواستیں بھیجی ہیں۔ میٹا پہلے ہی کافی مواد ہٹا چکا ہے۔ ہم ان ویڈیوز کو پوسٹ کرنے والوں سے بھی رابطہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً سب اتر پردیش، بہار اور دیگر ریاستوں سے ہیں۔ کوئی بھی مقامی شخص اس میں شامل نہیں ہے۔ ہم نے امن میٹنگیں کی ہیں اور دونوں برادریوں کے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ کوئی تشدد نہیں ہوگا۔‘
پولیس کے مطابق، واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ علاقے کو زون، سیکٹر اور سب سیکٹر میں تقسیم کر کے پولیس تعینات کی گئی ہے اور مسلسل حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی پولیس نے دونوں برادریوں کے لوگوں سے بات چیت کر کے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کو کہا ہے۔






