بنگلہ دیش نے پاکستان کو 3 میچوں کی وَنڈے سیریز کے تیسرے اور آخری مقابلے میں 11 رن سے شکست دے کر 2-1 سے سیریز اپنے نام کر لی۔ ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں بنگلہ دیش کی جیت سے زیادہ آخری اوور میں ہونے والا ڈی آر ایس (ڈیسیزن ریویو سسٹم) تنازعہ سرخیوں میں آ گیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے میچ ریفری نعیم الرشید سے باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ بنگلہ دیش کا آخری گیند سے پہلے لیا گیا ریویو قوانین کے مطابق نہیں تھا۔
واضح رہے کہ تیسرے ونڈے میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے بنگلہ دیش نے 50 اوورس میں 290 رن بنائے۔ جواب میں پاکستان کی ٹیم 50 اوورس میں 279 رن ہی بنا سکی اور میچ 11 رن سے ہار گئی۔ خاص بات یہ رہی کہ پاکستان کے خلاف ونڈے سیریز میں یہ جیت بنگلہ دیش کو 11 سال بعد ملی ہے، جو ان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش نے پہلے ونڈے میں 8 وکٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔ پہلے گیند بازی کرتے ہوئے بنگلہ دیش نے پاکستان کو 114 رن پر سمیٹنے کیے بعد بنگلہ دیش نے اس معمولی ہدف کو 16 اوورس میں ہی حاصل کر لیا تھا۔ دوسرے ونڈے میں پاکستان نے واپسی کرتے ہوئے 128 رن سے بنگلہ دیش کو شکست دے دیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے حال ہی میں ہوئے ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کی مخالفت میں آئی سی سی کے خلاف جم کر ڈرامہ کیا تھا، حالانکہ بعد میں پی سی بی مان گیا تھا۔ پاکستانی ٹیم ہندوستان کے ساتھ گروپ مقابلے میں شکست کے ساتھ ساتھ سپر-8 سے ہی باہر ہو گئی تھی۔ ٹی-20 ورلڈ کپ میں عدم شرکت کے بعد بنگلہ دیش کے زخموں پر مرہم لگانے کے لیے پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش پہنچی، لیکن بنگلہ دیش سے لہولہان ہو کر پاکستانی ٹیم اپنے گھر لوٹ گئی۔
ڈی آر ایس تنازعہ تیسرے ونڈے کے آخری اوور کی دوسری گیند پر ہوا۔ اس وقت پاکستان کو جیت کے لیے 2 گیندوں میں 12 رن چاہیے تھے اور اسٹرائک پر شاہین آفریدی موجود تھے۔ بنگلہ دیش کے گیند باز رشاد حسین نے لیگ اسٹمپ کی طرف گیند پھینکی جو بلے باز سے دور جاتی دکھائی دی۔ آن فیلڈ امپائر کمار دھرم سینا نے اسے وائڈ قرار دے دیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اچانک ایل بی ڈبلیو کے لیے ڈی آر ایس لینے کا فیصلہ کیا، جبکہ پہلی نظر میں گیند بلے باز کے جسم سے دور جاتی دکھائی دے رہی تھی۔ پاکستانی ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش نے ریویو لینے سے قبل اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر گیند کا ری پلے دیکھ لیا تھا۔ کرکٹ کے قوانین کے مطابق کھلاڑیوں کو ریویو کا فیصلہ تب تک لینا ہوتا ہے، جب تک کسی بھی طرح کا ری پلے دکھائی نہ دے یعنی 15 سیکنڈ کے اندر، تاکہ فیصلے پر بیرونی معلومات کا اثر نہ پڑے۔
پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریویو لینے کے لیے طے 15 سیکنڈ کی مدت گزر چکی تھی۔ حالانکہ ٹی وی نشریات پر ٹائمر نہیں دکھایا گیا تھا، اس لیے اس کی تصدیق آزادانہ طور پر نہیں ہو سکی۔ جب معاملہ ڈی آر ایس میں گیا تو ’ہاک آئی‘ تکنیک میں یہ دکھائی دیا کہ گیند شاہین آفریدی کے بلے کے نچلے حصے کو ہلکا سا چھو کر نکلی تھی۔ اس وجہ سے وائیڈ کا فیصلہ پلٹ دیا گیا۔ حالانکہ بنگلہ دیش ریویو ہار گیا، لیکن وائیڈ ختم ہونے کے بعد میچ کی صورتحال بدل گئی اور اب پاکستان کو آخری گیند پر 12 رنز درکار تھے۔ آخری گیند پر شاہین آفریدی بڑا شاٹ لگانے کی کوشش میں اسٹمپ آؤٹ ہوگئے۔ آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے غصے میں اپنا بلا اسٹمپ پر دے مارا۔ اس طرح بنگلہ دیش نے 11 رنز سے میچ جیت لیا اور سیریز بھی اپنے نام کر لی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سیریز میں تنازعہ کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ دوسرے ون ڈے میں سلمان علی آغا رن آؤٹ ہونے کے بعد کافی ناراض نظر آئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ان پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا تھا، جبکہ مہدی حسن معراج پر بھی میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ ان تمام تنازعات کے درمیان بنگلہ دیش کے لیے یہ سیریز تاریخی رہی۔ تیسرے میچ میں اور سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تنزید حسن تمیم کو پلیئر آف دی میچ اور ’پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































