
اس تنازعہ کے وسیع جغرافیائی سیاسی اثرات بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ امریکہ بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کی بنیادی اسٹریٹجک توجہ ہند۔بحرالکاہل خطے اور چین کے چیلنج پر مرکوز ہے۔ لیکن ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی وسائل، توجہ اور فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑ دے گی۔ ہتھیاروں کے ذخائر کم ہوں گے، بحری بیڑوں پر دباؤ بڑھے گا اور سفارتی توانائی ایک ایسے خطے میں بحران سے نمٹنے پر خرچ ہوگی جسے واشنگٹن کم ترجیح دینا چاہتا تھا۔
چین کے لیے یہ صورتحال ایک اسٹریٹجک موقع بن سکتی ہے۔ بیجنگ کو فائدہ اٹھانے کے لیے براہ راست جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جیسے ہی امریکہ ایک اور طویل تنازع میں الجھتا ہے، چین عالمی سطح پر اپنا معاشی اثر و رسوخ بڑھا سکتا ہے، فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کر سکتا ہے اور نئی شراکت داریوں کو فروغ دے سکتا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بالآخر صبر اور برداشت کی جنگ ہوتی ہے، اور جو طاقت بار بار جنگوں میں خود کو تھکا دیتی ہے وہ دیگر میدانوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔
اسی میں موجودہ جنگ کی سب سے بڑی ستم ظریفی پوشیدہ ہے۔ امریکی طاقت کے مظاہرے اور عالمی قیادت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے شروع ہونے والی یہ جنگ، الٹا امریکی اثر و رسوخ اور اس کی اسٹریٹجک حدود کو بے نقاب کر سکتی ہے۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اوپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعہ کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)





