
انسانی تاریخ کے طویل فکری سفر میں ایک سوال ہمیشہ انسان کے سامنے کھڑا رہا ہے: حقیقت کیا ہے؟ یہ کائنات کہاں سے آئی اور اس کے پیچھے کون سی اصل طاقت کارفرما ہے؟ فلسفے کی بحثیں، سائنس کی تحقیقات اور انسانی شعور کا مسلسل غور و فکر ہمیں ایک بنیادی اصول تک پہنچاتا ہے: حقیقت متضاد نہیں ہو سکتی۔ اگر سچائی کئی متضاد شکلوں میں بٹ جائے تو وہ سچائی نہیں رہتی بلکہ مفروضہ بن جاتی ہے۔ اس لیے عقل کا تقاضا یہی ہے کہ سچائی آخرکار ایک ہی ہوتی ہے۔
اسی ایک حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسان کو دو بڑے میدان ملتے ہیں: ایک کائنات کا وسیع منظرنامہ اور دوسرا اس کی اپنی داخلی دنیا۔ جب انسان آسمانوں اور زمین کے نظام پر غور کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنے دل و دماغ کی گہرائیوں میں جھانکتا ہے تو اسے ہر طرف ایک ہی حقیقت کے آثار نظر آتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اسلام اپنی بنیادی تعلیم میں پیش کرتا ہے۔ اسلام دراصل کسی مخصوص قوم یا زمانے کا مذہب نہیں بلکہ اسی ایک حقیقت کا نام ہے کہ اس کائنات کا خالق اور حاکم ایک ہے اور انسان اسی کے سامنے جواب دہ ہے۔






