سنبھل مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا آرڈر منسوخ، الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی انتظامیہ کی سرزنش کی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 15, 2026360 Views


الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل کی ایک مسجد میں رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے اتر پردیش انتظامیہ کے حکم کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر حکام اسے نافذ نہیں کر سکتے تو انہیں اپناعہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

(علامتی تصویر: جئے پور میں رمضان کے دوران نماز ادا کرتے لوگ۔ تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:  الہ آباد ہائی کورٹ نے 27 فروری کو اتر پردیش انتظامیہ کے اس فیصلے کو خارج کر دیا، جس میں سنبھل ضلع کی ایک مسجد میں رمضان کے دوران نماز ادا کرنے والے افراد کی تعداد محدود کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر انتظامیہ اسے نافذ کرنے کے قابل نہیں ہے تو حکام کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ‘اگر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ضلع کلکٹر کو امن و امان خراب ہونے کا خدشہ ہے اور اسی وجہ سے وہ نمازیوں کی تعداد محدود کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں یا تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے یا تبادلے کی درخواست کرنی چاہیے، اگر وہ قانون کی حکمرانی نافذ کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ریاست کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے دلیل دی کہ ممکنہ امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن ہم اس دلیل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہر حال میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ریاست کا فرض ہے۔

عدالت نے یہ ریمارکس منزر خان کی طرف سے دائر کی گئی ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران دیے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہیں سنبھل میں گاٹا نمبر 291 پر رمضان کے دوران نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے، جہاں ان کے مطابق ایک مسجد موجود ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے اس مقام پر صرف 20 افراد کو نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جبکہ رمضان کے دوران بڑی تعداد میں نمازیوں کے آنے کا امکان ہوتا ہے۔

بنچ نے مزید کہا،’ اگر مقامی حکام- سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور کلکٹر کو لگتا ہے کہ امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور اسی وجہ سے وہ احاطے کے اندر نمازیوں کی تعداد محدود کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے یا سنبھل سے باہر تبادلے کی درخواست کرنی چاہیے، اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی نافذ کرنے کے اہل نہیں ہیں۔’

ریاستی حکومت نے اس پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حد ممکنہ امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی تھی۔

عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر حال میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہر برادری کو اپنے مذہب پرپُرامن طریقے سے عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ ہر برادری کو اپنے مقررہ عبادت گاہ پر پُرامن طور پر عبادت کرنے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے مزید کہا،’ اگر وہ جگہ نجی ملکیت ہے، جیسا کہ عدالت پہلے بھی کہہ چکی ہے، تو وہاں عبادت کرنے کے لیے ریاست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔’

عدالت نے واضح کیا کہ ریاست کی اجازت صرف اسی وقت ضروری ہوتی ہے جب مذہبی سرگرمیاں عوامی زمین پر منعقد کی جائیں یا عوامی جائیداد تک پھیل جائیں۔

ریاست نے مذکورہ گاٹا نمبر 291 کی ملکیت پر اعتراض اٹھایا ہے، جہاں درخواست گزار مسجد ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے، اور کہا ہے کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ زمین سکھی سنگھ کے بیٹے موہن سنگھ اور بھوراج سنگھ کے نام درج ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے ابھی تک اس مقام پر مسجد یا نماز ادا کرنے کی جگہ کے وجود کو ظاہر کرنے والی تصویریں پیش نہیں کی ہیں۔

لائیو لا کے مطابق، ریاست نے اس معاملے میں مزید ہدایات حاصل کرنے کے لیے وقت مانگا ہے، جبکہ درخواست گزار نے ایک ضمنی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے وقت مانگا ہے، جس میں وہ ان مقامات کی تصویریں اور ریونیو ریکارڈ پیش کرے گا جہاں نماز ادا کی جانی ہے۔

عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 16 مارچ کو طے کی ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...