ایران پر حملہ: ارندھتی رائے نے کہا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 10, 2026362 Views


دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں ملک کی نامور ادیبہ ارندھتی رائے نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘ پر منعقد مذاکرے کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بارے میں کئی اہم باتیں کہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستانی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ غزہ میں امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا ہی تسلسل ہے، لیکن ایران غزہ نہیں ہے۔

ارندھتی رائے9مارچ کو کمانی آڈیٹوریم میں اپنی کتاب پر مذاکرے کی تقریب کے دوران۔ فوٹو: دی وائر

نئی دہلی: مجھے کچھ کہنا ہے کیونکہ میں اپنی ماں کی بیٹی ہوں اور مجھے ہمت جمع کر کے یہ بات کہنی ہی ہوگی۔ یہ اس جنگ کے بارے میں ایک چھوٹا سا بیان ہے جو پوری دنیا کو اپنی زد میں لے سکتی ہے۔

یہ بات 9 مارچ کو دہلی کے کمانی آڈیٹوریم میں ملک کی نامور ادیبہ ارندھتی رائے نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘پر مذاکرے کی تقریب کے بعد کہی۔ انہوں نے ایران پر امریکہ-اسرائیل کے حملے کے حوالے سے کئی اہم نکات پیش کیے اور ساتھ ہی مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستان کی خاموشی پربھی سوال اٹھائے۔

انہوں نے کہا،’مجھے پتہ ہے کہ ہم آج یہاں’مدر میری کمز ٹو میکے بارے میں بات کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں۔ لیکن ان خوبصورت شہروں -تہران، اصفہان اور بیروت – کے بارے میں بات کیے بغیر ہم اس کو کیسے ختم کر سکتے ہیں، جو اس وقت آگ کے شعلوں کی زد میں ہیں؟‘

ارندھتی رائے نے مزید کہا،’اپنی ماں میری کی صاف گوئی اور بے باکی کا خیال کرتے ہوئے ، میں اس اسٹیج کا استعمال امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے بلاجواز اور ناجائز حملے کے بارے میں کچھ کہنے کے لیے کرنا چاہوں گی۔ یہ یقیناً غزہ میں امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا تسلسل ہے۔ یہ وہی پرانے نسل کشی کرنے والے ہیں جو وہی پرانی حکمت عملی اپنا رہے ہیں-خاتون اور بچوں کو قتل کرنا، اسپتالوں پر بمباری کرنا، شہروں پر اندھا دھند بمباری کرنا اور پھر خود کو مظلوم کی طرح پیش کرنا۔‘

ایران غزہ نہیں ہے، جنگ پوری دنیا کو اپنی زد میں لے سکتی ہے

انہوں نے مزید کہا،’لیکن ایران غزہ نہیں ہے۔ اس نئی جنگ کا دائرہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ہم ایٹمی تباہی اور اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ جس ملک نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرائے تھے،  ہو سکتا ہے وہی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک پر بمباری کی تیاری کر رہا ہو۔ اس موضوع پر تفصیل سے بات کرنے کے اور بھی مواقع آئیں گے، اس لیے فی الحال صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ میں ایران کے ساتھ کھڑی ہوں۔ پوری طرح سے۔ امریکہ، اسرائیل اور ہماری حکومت سمیت جن بھی حکومتوں کو بدلنے کی ضرورت ہے، انہیں عوام کے ذریعے بدلا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مغرور، جھوٹے، دھوکے باز، لالچی، وسائل لوٹنے والے، بم گرانے والے سامراجی اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے، جو پوری دنیا کو اپنےماتحت لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ارندھتی رائے کے مطابق،’ایران ان چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے، جبکہ ہندوستان  ڈرپوک بنا ہوا ہے۔ مجھے شرم آتی ہے کہ ہماری حکومت کتنی بزدل ہے اور اس کی ریڑھ کی ہڈی سلامت نہیں ہے۔ بہت پہلے ہم ایک غریب ملک تھے ،جہاں بہت غریب لوگ رہتے تھے، لیکن ہمیں فخر تھا، ہمارے پاس عزت تھی۔ آج ہم ایک امیر اور ثروت مند ملک ہیں، جہاں بہت سے غریب اور بے روزگار لوگ رہتے ہیں، جنہیں حقیقی خوراک کے بجائے نفرت، زہر اور جھوٹ پیش کیا جاتا ہے۔ ہم نے اپنا وقار کھو دیا ہے۔ ہم نے عزت کھو دی ہے۔ ہم نے ہمت کھو دی ہے — سوائے ہماری فلموں کے۔‘


انہوں نے مزید کہا،’ہم کس طرح کے لوگ ہیں جن کی منتخب حکومت امریکہ کی طرف سے دوسرے ممالک کے سربراہان کے اغوا اور قتل کی مذمت کرنے کے لیے بھی کھڑی نہیں ہو سکتی؟ کیا ہم چاہیں گے کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو؟ ہمارے وزیر اعظم کا ایران پر حملے سے چند دن پہلے اسرائیل جا کر  نیتن یاہو کو گلے لگانا — اس کا کیا مطلب ہے؟

ہماری حکومت کا امریکہ کے ساتھ ایک ایسا تجارتی معاہدہ کرنا جو ہمارے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کو مکمل طور پر تباہ کر دیتا ہے -اور یہ سب امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے ٹرمپ کے ٹیرف کو غیرقانونی قرار دینے سے صرف چند دن پہلے ہوا -اس کا کیا مطلب ہے؟اب ہمیں روس سے تیل خریدنے کی ’اجازت‘دی جا رہی ہے -اس کا کیا مطلب ہوا؟ ہمیں اور کس چیز کے لیے اجازت چاہیے؟ باتھ روم جانے کے لیے؟ کام سے چھٹی لینے کے لیے؟ اپنی ماں سے ملنے کے لیے؟‘


وہ حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں،’ہر دن ڈونالڈ ٹرمپ سمیت امریکی سیاست دان عوامی طور پر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور ہمیں نیچا دکھاتے ہیں۔ لیکن ہمارے وزیر اعظم اپنی وہی کھوکھلی ہنسی ہنستے ہیں اور گلے ملتے رہتے ہیں۔ غزہ میں نسل کشی کی انتہا کے دوران ہندوستان کی حکومت نے بے دخل کیے گئے فلسطینی مزدوروں کی جگہ لینے کے لیے ہزاروں غریب ہندوستانی مزدوروں کواسرائیل بھیجا تھا۔ آج جب اسرائیلی لوگ بنکروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں تو خبریں آ رہی ہیں کہ ان ہندوستانی مزدوروں کو ان پناہ گاہوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ آخر ان سب کا مطلب کیا ہے؟ ہمیں دنیا میں اس قدر ذلت آمیز، بے شرم اور گھناؤنی جگہ تک کس نے پہنچا دیا ہے؟‘

وہ مزید کہتی ہیں،’آپ میں سے کچھ لوگوں کو یاد ہوگا کہ ہم اس مبالغہ آمیز چینی کمیونسٹ کہاوت’سامراجیت کا پچھلگو‘کا کس طرح مذاق اڑایا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت میں کہوں گی کہ یہ لفظ ہم پر بالکل صادق آتا ہے۔ سوائے اُن مسخ شدہ اور زہریلی فلموں کے جن میں ہمارے ہیرو ایک کے بعد ایک خیالی جنگیں جیتتے ہوئے، احمق اور انتہائی طاقتور بن کر گھومتے رہتے ہیں۔ اپنی بے وجہ کی تشدد پسندی اور ذہنی غلاظت سے ہمارےخون کی پیاس کو اور بھڑکاتے ہیں۔‘

کیونکہ میں اپنی ماں کی بیٹی ہوں‘…

قابل ذکر ہے کہ ارندھتی رائےنے اپنی بات کی شروعات’…کیونکہ میں اپنی ماں کی بیٹی ہوں…‘ سے کی تھی، اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ یہ بات انہوں نے اپنی کتاب ’مدر میری کمز ٹو می‘پر مذاکرے کے بعد کہی، جسے گزشتہ سال پینگوئن رینڈم ہاؤس نے شائع کیا ہے۔

دہلی کےکمانی آڈیٹوریم میں ارندھتی رائےنیلانجنا رائےکے ساتھ بات چیت کر رہی تھیں۔ ان کی کتاب کی طرح اُس شام کی تقریب میں ارندھتی کی اپنی تیز طرار اور  انقلابی ماں میری رائےکے ساتھ اتار چڑھاؤ بھرا رشتہ، اپنے غیر حاضر اور شرابی باپ سے مختصر ملاقاتیں،اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکی ٹیکچر میں گزارا ہوا وقت اور ایک مصنفہ کے طور پر ان کا سفر شامل تھا۔

نیلانجنا کے سوال اور ارندھتی کے جواب نہ صرف اس کتاب تک محدود تھے – جسے ارندھتی یادداشت کہنا پسند نہیں کرتیں، جب تک کہ آپ اسےایک ’ناول نگار کی یادداشت‘ نہ کہیں – بلکہ ان کے وسیع تر کام اور سرگرمیوں کو بھی منعکس  کر  رہے تھے۔ اس لیے ایران کے بارے میں ان کا آخری قول اس شام کا واحد سیاسی لمحہ نہیں تھا۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ کیسے ’اے آئی‘  آہستہ آہستہ ’حقیقی ذہانت‘ کو تباہ کر رہا ہے، کیونکہ پانچ سفید فام مرد ہمارے تخیل سے کہیں زیادہ وسائل -قدرتی وسائل اور صدیوں کے انسانی وسائل –  کااستعمال کر چکے ہیں۔

ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے  ’بھگواکرن‘ کے بارے میں ناظرین کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ وہ تمام ادارے جن پر کبھی ہندوستانی فخر کر سکتے تھے، آج شرمندگی کا باعث بن گئے ہیں۔

ہندوستان میں حالات بدلے ہیں؟

ان کی ایک غیر ملکی دوست، جن سے ان کی آخری ملاقات 2017–18 میں ہوئی تھی، نے حال ہی میں ان سے پوچھا کہ کیا اس کے بعد ہندوستان میں حالات بدلے ہیں۔

انہوں نے جواب دیا، ’تب ہم ایک فاشسٹ حکومت سے لڑ رہے تھے۔ اب ہم ایک فاشسٹ معاشرے سے لڑ رہے ہیں۔‘

کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے کہ ارندھتی کو ’کھوکھلی کامیابی‘ کے جشن میں خوشی کیوں نہیں ملتی، انہوں نے بتایا کہ جن موضوعات پر وہ لکھتی ہیں – کارپوریٹ عالمگیریت، جنگ، ڈیم، نقل مکانی اور سامراجیت- ان کے باعث خود کو صحیح معنوں میں کامیاب سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مذاکرہ کا زیادہ تر وقت میری رائےاور ان کے بچوں ، ارندھتی اور ان کے بھائی کے ساتھ ان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے گزرا۔ ایک ماں کے طور پر میری رائے اکثر سخت تھیں، مگر ایک استاد اور شامی عیسائی خواتین کے لیے یکساں وراثتی حقوق کی جدوجہد کرنے والی خاتون کے طور پر وہ مہربان اور انقلابی بھی تھیں۔

’مدر میری کمز ٹو می‘ ان کی شخصیت کے ہر پہلو کو معنون ایک خراج عقیدت ہے، اور ایک بیٹی کی طرف سے دنیا کے سامنے ایک پیچیدہ عورت کی تصویر پیش کرنے کی کوشش بھی۔ کتاب اور ارندھتی کے الفاظ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس رشتے نے ان کی زندگی کو کتنا متاثر کیا ہے۔ شاید اسی لیے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس رشتے کو دوبارہ جینا چاہیں گی یا کسی دوسری ماں کو پسند کریں گی، تو انہوں نے کہا کہ وہ ’سو فیصد‘اسی رشتے کو دوبارہ جینا چاہیں گی۔

مذاکرے کے دوران اس بات کے اشارے ملتے رہے کہ آخر میں کچھ ایسا ہوگا جس کا انتظار کرنا بامعنی ہوگا۔ اور جب انہوں نے اپنا آخری بیان دیا، جس میں انہوں نےایران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے کا اعلان کیا اور ہندوستانی حکومت کی مذمت کی، جو ایسا کرنے میں ناکام ہے، تو ناظرین کھڑے ہو گئے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔تالیوں کی گونج پر مسکراتے ہوئے انہوں نے ہاتھ سے فتح کا نشان بناتے ہوئے کہا،’دہلی میں ہم ہمیشہ پلٹ کر لڑتے ہیں۔‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...