کیا پڑوسیوں کے جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے؟

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 10, 2026364 Views


دہلی کے اتم نگر علاقے میں ہولی پر ایک مسلم خاتون پر غبارہ پھینکنے کے معاملے پر ہوئے جھگڑے میں 26 سالہ ترون کے قتل کے بعد اتوار کو ایم سی ڈی نے کلیدی ملزمین کے گھر کے کچھ حصوں کو تجاوزات قرار دیتے ہوئے منہدم کر دیا۔ وہیں، ملزم خاندان کا کہنا ہے کہ قتل انہوں نے نہیں کیا۔ ترون کا خاندان انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ملزم خاندان کی ایک رکن کا کہنا ہے کہ پڑوسیوں کے جھگڑے کو مذہبی جھگڑا بنا دیا گیا ہے۔

ملزم خاندان کی رکن شاہین (بائیں)، مقتول ترون (دائیں) اور پس منظر میں ملزمین کے گھر پر ہوئی بلڈوزر کارروائی۔ (تصویر: پی ٹی آئی/ارینجمنٹ)

نئی دہلی:دہلی کے اتم نگر علاقے کی جے جے کالونی میں ہولی کے دن (4 مارچ) پانی سے بھرے ایک غبارے کو لے کر دو خاندانوں کے درمیان ہوئے جھگڑے میں 26 سالہ نوجوان ترون کمار کی موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ان کے پڑوس میں رہنے والے ایک مسلم خاندان پر لگا اور اس کے بعد سے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جانے لگا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور ملزمان کے خلاف’بلڈوزر کارروائی‘اور ’انکاؤنٹر ‘ کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

آخرکار اتوار (8 مارچ) کو دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے ملزم خاندان کے گھر کے کچھ حصوں کو  ’تجاوزات ‘ قرار دے کرتوڑ  دیا۔ دوسری جانب ، ملزم خاندان کا کہنا ہے کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے۔

ترون کے والد میمراج۔ فوٹو : وپل کمار / دی وائر

ترون کے والد میمراج نے دی وائر  کو بتایا،’یہ واقعہ ہولی کے دن پیش آیا، جب ہمارے خاندان کی تقریباً 6–7 سال کی ایک بچی نے اپنے گھر کی بالکونی سے پانی سے بھرا ہوا غبارہ نیچے پھینکا، جس کے کچھ چھینٹے وہاں سے گزر رہی ایک مسلم خاتون پر پڑ گئے۔ ‘

ترون کے والد میمراج کے مطابق، ’وہ خاتون بہت غصے میں آ گئی اور شور مچا کر بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا۔ ہم نے خاتون سے معافی مانگی اور کہا کہ بچی سے غلطی ہو گئی ہے، ہم اسے ڈانٹ دیں گے۔ لیکن وہ خاتون نہیں مانی اور اپنے خاندان کے افراد اور کئی دوسرے لوگوں کو لے آئی، تقریباً 50–60 افراد کو۔ ان لوگوں نے میرے خاندان کے ساتھ مارپیٹ شروع کر دی۔ اس کے بعد ہم لوگ گھر کے اندر چلے گئے اور اندر سے کنڈی لگا لی۔ ‘

میمراج کے مطابق، اس وقت ان کا بیٹا ترون گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ جب ترون رات کو گھر واپس آیا تو حملہ آور وہیں پاس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میمراج نے بتایا،’جیسے ہی ترون بلیٹ سے اتر کر اپنے گھر کی طرف بڑھا، ویسے ہی ان لوگوں نے لاٹھیوں، ڈنڈوں اور لوہے کی پائپ سے اس پر وار کر دیا اور اس کے سر پر مارا۔ ‘

میمراج کہتے ہیں کہ جیسے ہی انہیں اس کی خبر ملی، وہ لوگ زخمی ترون کے پاس پہنچے اور اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ اٹھ نہیں سکا۔ اس کے بعد ترون کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں اگلے دن (5 مارچ) اس کی موت ہو گئی۔

دیوار پر بنے اس نشان کو زخمی ترون کے ہاتھ کا نشان بتائا جا رہا ہے۔ (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر )

ترون اور ملزم خاندان کے پڑوس میں رہنے والے کئی لوگوں نے دی وائر کو بتایا کہ دونوں خاندانوں کے آپسی رنجش تھی اور وہ پہلے بھی کئی بار ایک دوسرے سے لڑ چکے تھے۔ تاہم میمراج ان دعوؤں سے انکار کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ہماری پہلے کبھی لڑائی نہیں ہوئی تھی، پتہ نہیں انہوں نے کیا سوچ رکھا تھا میرے بچے کے بارے میں ۔ ‘

میمراج چاہتے ہیں کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ ان کے بیٹے کو انصاف مل سکے۔

مقتول ترون دوارکا میں واقع ایک ادارے میں ڈیزائنر کا کورس کر رہے تھے۔ میمراج کہتے ہیں،’ترون کہا کرتا تھا کہ پاپا، میں ایک سال بھر میں پیسے کمانے لگوں گا اور پھر آپ کا سہارا بنوں گا۔ ‘

ترون۔ فوٹو : ارینجمنٹ

اس معاملے میں اب تک 3 خواتین سمیت کل 14 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 2 نابالغوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ملزم خاندان کا دعویٰ:قتل میرے خاندان والوں نے نہیں کیا ‘

دی وائر سے بات کرتے ہوئے ملزم خاندان کی 20 سالہ رکن شاہین نے دعویٰ کیا کہ ترون کا قتل غیر ارادی طور پر ترون کے خاندان نے ہی کیاہے۔

جس خاتون پر غبارہ اور پانی پھینکے جانے کا الزام ہے وہ شاہین کی پھوپھی ہیں۔ شاہین کے مطابق،’میری پھوپھی سحری کا سامان لینے گئی تھیں، اس دوران بھی ان پر پانی ڈالا گیا تھا، لیکن تب انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ لیکن جب وہ سامان لے کر واپس آ رہی تھیں تو دوبارہ ان پر پانی پھینکا گیا۔ غبارے میں گندا پانی بھر کر ان پر ڈالا گیا۔ اور پانی پھینکنے والا 20 سال کا ایک لڑکا تھا۔ یہ جھوٹ کہا جا رہا ہے کہ پانی پھینکنے والی کوئی 5–6 یا 11 سال کی بچی تھی۔ ‘

’جہاں تک ہولی کے رنگوں کی بات ہے تو ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے… ہمارا تو کام ہی رنگوں کا ہے۔ میرے پاپا، میرے بھائی سب ہولی کھیلتے ہیں۔‘

شاہین کہتی ہیں، ’جب میری پھوپھی نے گندا پانی ڈالنے کی مخالفت کی تو اس گھر سے چار لوگ باہر آئے۔ ان سب نے شراب پی رکھی تھی اور وہ میری پھوپھی کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے۔ انہوں نے میری پھوپھی کو غلط طریقے سے چھوا اور انہیں گندے گندے الفاظ کہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ جب ان کا بھائی یہ شور شرابہ سن کر باہر نکلا تو ترون کے خاندان والوں نے اس کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کر دی۔

شاہین بتاتی ہیں، ’اس کے بعد دونوں گھروں کے بڑے لوگ جمع ہوئے اور سمجھوتے کی بات کرنے لگے۔ اسی دوران ترون 25–30 لڑکوں کو اپنے ساتھ لے کر آیا، جنہوں نے شراب پی ہوئی تھی اور جن کے ہاتھوں میں لوہے کی راڈ، ہاکی اسٹک اور بیٹ تھے۔ ان لوگوں نے ہتھیاروں سے میرے گھر والوں کے سروں پر وار کیا۔‘

پولیس کے مطابق، اس مارپیٹ میں کل آٹھ لوگ زخمی ہوئے تھے، ایک فریق سے تین اور دوسرے فریق سے پانچ۔

وہ الزام لگاتی ہیں، ’قتل میرے خاندان والوں نے نہیں کیا۔ ترون کے بھائی ارون نے نشے کی حالت میں اسے میرے خاندان کا فرد سمجھ کر پیچھے سے اس کے سر پر وار کیا، جس سے وہ وہیں گر گیا۔‘

شاہین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس کو بلانے کے لیے انہی کے خاندان نے کال کی تھی۔ وہ کہتی ہیں،’ہم نے 7–8 بار کال کیا تب پولیس آئی۔ اور ہمارے ہی گھر والوں کو اٹھا کر لے گئی۔ ان میں سے (ترون کے خاندان) کسی کو کچھ نہیں بولا۔‘

شاہین نے بتایا کہ اب ان کے گھر میں صرف عورتیں رہ گئی ہیں۔’ گھر کے تمام مردوں کو پولیس نے جیل میں بند کر دیا ہے۔ جو لوگ موقع پر موجود بھی نہیں تھے انہیں بھی بغیر کسی قصور کے جیل میں ڈال دیا گیا۔‘

’میرے پاپا، میرے چچا، میرے بھائی، میرے 80 سال کے دادا جو دوائیوں پر ہیں… انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔‘

دونوں خاندانوں کے درمیان پہلے بھی جھگڑے ہوتے رہے ہیں

اس دوران دوارکا کے ڈی سی پی کشل پال سنگھ نے بتایا کہ پولیس کو رات  کے تقریباً 11 بجے اس واقعے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد پولیس فوراً موقع پر پہنچ گئی۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ دو برادریوں کے لوگوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔

ڈی سی پی نے بتایا کہ دونوں گروپوں کے کچھ لوگوں کو چوٹیں آئی تھیں، جنہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر حملے میں شامل لوگوں کی شناخت اور تصدیق کر رہی ہے۔

کشل پال سنگھ کے مطابق، دونوں خاندان اصل میں راجستھان کے رہنے والے ہیں اور ایک دوسرے کو تقریباً 50 سال سے جانتے ہیں۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ سال 2004 سے دونوں خاندان اس جگہ رہ رہے ہیں، اس سے پہلے وہ ایک جھگی میں رہتے تھے اور وہاں بھی پڑوسی ہی تھے۔

انہوں نے بتایا کہ’جانچ کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پڑوسیوں کے درمیان پارکنگ اور دیگر مسائل کو لے کر غیر فرقہ وارانہ جھگڑے ہوتے رہتے ہیں، اور ایسے تنازعات ان دونوں خاندانوں کے درمیان پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔‘

ڈی سی پی نے بتایا کہ معاملے کی جانچ جاری ہے۔

اس معاملے میں ابتدا میں پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 110 اور 3(5) کے تحت کیس درج کیا تھا۔ ترون کی موت کے بعد ایف آئی آر میں قتل سے متعلق دفعہ 103(1) بھی شامل کر دی گئی۔ اس کے علاوہ، خاندان کی مانگ کے بعد درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل (انسدادمظالم) ایکٹ کے تحت بھی دفعات لگائی گئی ہیں۔

واقعہ نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا

جے جے کالونی کی زیادہ تر گلیاں بھگوا جھنڈوں سے بھری ہوئی ہیں۔ کئی جگہوں پر پوسٹر بھی لگے ہیں، جن میں ہستسال کالونی میں 18 جنوری کو سکل ہندو سماج کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک ہندو کاسمیلن کا ذکر ہے۔

کالونی میں ہندو اور مسلمان کی ملی جلی آبادی رہتی ہے۔ آس پاس کے کچھ لوگ 4 مارچ کو ہونے والے واقعہ کو فرقہ وارانہ تشدد نہیں مانتے۔ تاہم، اس کے بعد کے واقعات سے ایسا لگ رہا ہے کہ معاملہ فرقہ وارانہ رخ اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں کچھ دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ لوگ اس پورے معاملے کی بنیاد پر فرقہ وارانہ کشیدگی کی بنیاد رکھتے نظر آ رہے ہیں۔

علاقے میں لگے بھگوا جھنڈے۔ فوٹو: شروتی شرما / دی وائر

بتایا گیا ہے کہ واقعہ کے اگلے دن’جئے شری رام‘ کے نعرے لگاتی ایک مشتعل بھیڑ نے پولیس کی موجودگی میں ملزم کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور گھر کا سامان سڑک پر پھینک دیا۔ بھیڑ نے ان کے گھر کے سامنے کھڑی گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھیڑ کسی ہندوتوا تنظیم کے لوگوں کی تھی اور وہ دوسرے علاقے سے آئے تھے۔

الزام ہے کہ ملزم خاندان کی اس کار کو بھیڑ نے آگ لگا دی تھی۔ فوٹو: ارینجمنٹ

ملزم خاندان کی رکن شاہین نے بھی الزام لگایا ہے کہ’دو پڑوسیوں کی لڑائی کو بجرنگ دل والوں نے مذہب کی لڑائی بنا دیا ہے۔‘

ملزم کےیہاں توڑ پھوڑ کے واقعہ کے سوال پر مقتول کے چچا نے دی وائر سے کہا، ’ہم اس واقعے کے بعد بہت صدمے میں تھے۔ ہم اس حالت میں نہیں تھے کہ یہ سب کر سکیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کس نے کی۔ ‘

ترون کے قتل کی وجہ فرقہ وارانہ ہونے کے سوال پر میمراج نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں، ’لوگ تو یہی کہہ رہے ہیں۔ ‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مطابق یہ ذات پر مبنی تشدد ہے۔ وہ کہتے ہیں،’کھٹک برادری (شیڈولڈ کاسٹ) کے لوگوں کو وہ یہاں رہنے نہیں دینا چاہتے۔ ‘

پولیس نے بیریکیڈنگ کے ذریعے کالونی کے اندر آنے جانے کے راستے بند کر دیے ہیں۔ (تصویر: شروتی شرما / دی وائر)

دریں اثنا،ایک دائیں بازو کی تنظیم ہندو رکشا دل کے رکن للت شرما نے اتم نگر میں منعقد ایک اجلاس میں کہا کہ اس بار وہ مسلمانوں کو عید منانے نہیں دیں گے، چاہے اس کے لیے خون کی ہولی ہی کیوں نہ کھیلنی پڑے۔ شرما نے کہا،
’نہ اس بار عید منے گی، نہ ہی ہم نماز پڑھنے دیں گے۔ چاہے خون کی ہولی ہی کیوں نہ کھیلنی پڑے، اس بار عید پر ہولی ضرور کھیلیں گے۔ ‘

انہوں نے کہا،’ہندو رکشا دل میدان میں آ گیا ہے، اس بار ہم ان (مسلمانوں) کا دماغ ٹھیک کر دیں گے۔ ‘

اس سے پہلے اتوار کے روز دائیں بازو کے حامیوں کی ایک بھیڑ نے اتم نگر میٹرو اسٹیشن کے قریب ترون کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا، جس میں ’دیش کے غداروں کو، گولی مارو #لوں کو ‘جیسے نعرے لگائے جا رہے تھے۔

گزشتہ 4 مارچ کو پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ کالونی میں آنے جانے کے بیشتر راستے پولیس بیریکیڈنگ کے ذریعے بند کر دیے گئے ہیں اور علاقے کی تقریباً تمام دکانیں بند ہیں۔

پولیس کی موجودگی کے درمیان بچے کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے۔ (تصویر: وپل کمار / دی وائر )

کالونی کی ہندو آبادی ملزمان کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ وہیں،ان میں سے کچھ لوگ علاقے سے پوری مسلم آبادی کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

کلیدی ملزم کے گھر پر بلڈوزر کارروائی

ترون کمار کے قتل کے چار دن بعد، اتوار (8 مارچ) کو ایم سی ڈی کے حکام نے کلیدی ملزم کے گھر کے کچھ حصوں کو منہدم کر دیا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، پولیس ذرائع نے بتایا کہ تین منزلہ مکان کے  ’متجاوز ‘ حصے اور آس پاس کی کچھ دیگر مبینہ غیر قانونی تعمیرات کو بھی گرا دیا گیا ہے۔

ایم سی ڈی کے ایک افسر نے کہا،’یہ انہدامی کارروائی اس لیے کی گئی کہ یہ ڈھانچہ نالے پر تجاوز تھا۔ مون سون سے پہلے نالے کی صفائی کے لیے اسے ہٹانا ضروری تھا۔ ‘

جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ایسی کارروائی سے پہلے رہائشیوں کو نوٹس دینا ضروری ہوتا ہے، تو افسر نے کہا،’اگر تعمیر غیر مجاز ہو تو توڑ پھوڑ سے پہلے نوٹس دیا جاتا ہے، لیکن اگر معاملہ قبضے کا ہو تو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ‘

یہ کارروائی دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے اس بیان کے بعد ہوئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس معاملے میں سخت اور مثالی کارروائی کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی غیر انسانی حرکت کرنے کی جرأت نہ کرے۔

واضح ہو کہ نومبر 2024 میں بلڈوزر کارروائیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک اہم ہدایت جاری کی تھی۔ سپریم کورٹ نے مبینہ ’بلڈوزر جسٹس ‘ کے خلاف سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’کسی بھی مہذب عدالتی نظام میں بلڈوزر کے ذریعے انصاف نہیں کیا جاتا۔ قانون کی حکمرانی کے تحت یہ پوری طرح سے ناقابل قبول ہے۔ ‘

عدالت نے ہدایت دی تھی کہ کسی گھر یا عمارت کو گرانے سے پہلے چھ مراحل مکمل کرنا ضروری ہیں، جن میں مناسب سروے، تحریری نوٹس دینا اور اعتراضات پر غور کرنا شامل ہے۔

اتم نگر میں ہوئی  اس  ’بلڈوزر کارروائی ‘ پر سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے دی وائر سے کہا،’یہ بلڈوزر کارروائی مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے طے شدہ رہنما اصول موجود ہیں، لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا، کیونکہ سپریم کورٹ نے اب تک ان کی خلاف ورزی پر کسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی ہے۔ ‘

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)کی رہنما برندا کرات سال 2022 میں دہلی کے جہانگیرپوری علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد ہوئی انہدامی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ گئی تھیں۔ اتم نگر میں تجاوزات ہٹانے کے نام پر ملزمان کے گھر میں کی گئی توڑ پھوڑ پر انہوں نے کہا، ’آپ تجاوزات کے نام پر بغیر کسی نوٹس کے سزا دینا چاہتے ہیں۔ آپ پولیس ہیں، جج ہیں اور سزا دینے والی ایجنسی بھی بن گئے ہیں! آپ پوری طرح  بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس ملک کے قانون اور سپریم کورٹ کے احکامات کو نہیں۔ ‘

دوسری طرف وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، اندرپرستھ پرانت نے اس معاملے میں دہلی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

وی ایچ پی نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا،’ملزمان کی غیر قانونی تعمیرات پر پی ڈبلیو ڈی اور ایم سی ڈی کی جانب سے بلڈوزر کارروائی شروع ہونا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہلی میں جرم اور تشدد کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح کی فیصلہ کن کارروائی سے مستقبل میں مجرموں اور سماج دشمن عناصر کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا ہوگا۔ ‘

وی ایچ پی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین جرم میں ملوث ملزمان کو ملنے والی تمام سرکاری امداد اور سہولتوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے تاکہ مجرموں کو کسی بھی طرح کا تحفظ نہ مل سکے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...