مشرق وسطیٰ اور یوروپ میں جنگ سے پوری دنیا فکر میں مبتلا ہے۔ صرف جنگ میں شامل ممالک ہی نہیں، بلکہ دنیا کی بیشتر ممالک جنگ کے مضر اثرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ درآمدات و برآمدات تو متاثر ہیں ہی، مہنگائی بھی بڑھ چکی ہے، اور یہ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایک طرف جہاں دنیا جنگ سے پریشان ہے، وہیں دوسری طرف امریکہ ’موقع کا فائدہ‘ اٹھانے میں مصروف دکھائی دے رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 4 سالوں میں امریکہ نے جنگ سے متاثر ممالک کو خوب اسلحے فروخت کیے ہیں۔ اسلحوں کے بازار میں امریکہ کا دبدبہ بڑھ گیا ہے اور کچھ ممالک جو پہلے اسلحے کی دوڑ میں آگے تھے، وہ پیچھے ہو چکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ دنیا میں فروخت ہو رہے 100 میں سے 42 اسلحے امریکہ کے ہیں۔ یہ انکشاف ’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل‘ کی ایک رپورٹ میں ہوا ہے۔
’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل‘ کے مطابق دنیا بھر میں 25-2021 کے دوران جتنے بھی اسلحے فروخت ہوئے ہیں، ان میں 42 فیصد اسلحے امریکہ کے ہیں۔ 20-2016 کے دوران یہ نمبر 36 فیصد تھا۔ اس دورران اسلحہ فروخت کرنے کے معاملہ میں روس کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ دنیا میں اب اسلحے فروخت کرنے میں روس کی شراکت داری محض 6.8 فیصد ہے۔ امریکہ کے بعد اسلحہ فروخت کرنے کے معاملہ میں فرانس کا دبدبہ بڑھا ہے۔ فرانس سے سب سے زیادہ اسلحے ہندوستان خریدتا ہے۔
جہاں تک امریکہ کا سوال ہے، 3 ممالک خاص طور سے امریکی اسلحے کی خریداری کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کو امریکہ نے 25-2021 کے دوران سب سے زیادہ اسلحے فروخت کیے ہیں۔ سعودی کو گزشتہ سال امریکہ سے 48 ’ایف-35‘ ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ’تھاڈ‘ سسٹم بھی سعودی کو ملا ہے۔ گزشتہ 4 سالوں میں امریکہ کا مجموعی طور پر 12 فیصد اسلحہ سعودی عرب نے تنہا خریدا ہے۔ اس وقت سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ خریدار روس کے ساتھ جنگ میں الجھا یوکرین ہے۔ گزشتہ 4 سالوں میں امریکہ نے یوکرین کو اپنے مجموعی اسلحوں کا 9 فیصد اسلحہ فروخت کیا ہے۔ امریکہ سے یوکرین میزائل اور بکتربند گاڑیاں خرید رہا ہے۔ روس کے ساتھ یوکرین کی جنگ 2022 سے ہی جاری ہے۔
امریکہ سے اسلحہ خریداری معاملہ میں تیسرے نمبر کا ملک جاپان ہے۔ جاپان کا چین کے ساتھ تصادم چل رہا ہے۔ اس لیے اسلحوں کی اسے سخت ضرورت رہتی ہے۔ گزشتہ 4 سالوں میں امریکہ نے جاپان کو رڈار سسٹم اور میزائل فروخت کیے ہیں۔ جاپان ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا ساتھی بھی ہے۔ مذکورہ بالا 3 ممالک کے علاوہ امریکہ نے 25-2021 کے دوران 96 دیگر ممالک کو اسلحے فروخت کیے ہیں۔ ’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل‘ کے سینئر ریسرچر پیٹر ویزمین کے مطابق امریکہ نے تیزی سے کثیر قطبی ہوتی دنیا میں بھی اسلحہ فراہم کرنے والے ملک کی شکل میں اپنا دبدبہ مضبوط کر لیا ہے۔ امریکہ اسلحوں کی فروخت کو خارجہ پالیسی کے ایک عنصر اور اپنی اسلحہ صنعت کو مضبوط کرنے کے ایک طریقے کی شکل میں دیکھتا ہے۔




































