ایران-اسرائیل جنگ کی وجہ سے پوری دنیا کے لوگ جنگ سے متاثرہ ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔ حالانکہ ہندوستانی حکومت نے اب تک 50 ہزار سے زائد ہندوستانیوں کی وطن واپسی یقینی بنا لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں لوگوں کا باہر نکالنے کی کوشش جاری ہے۔ اس دوران دبئی سے ہندوستان آئے لوگوں کی وہاں کی صورتحال کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایک مسافرنے کہا کہ وہاں کی صورت حال بہتر ہے۔ جبکہ ایک دوسرے مسافر نے بتایا کہ وہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
دبئی سے بنگلورو ایئرپورٹ پہنچے ایک مسافر نے کہا کہ ’’میں نے 2 مارچ کی فلائٹ بک کی تھی، لیکن اس صورت حال کی وجہ سے وہ منسوخ ہو گئی۔ بعد میں ہمیں ایمریٹس کی فلائٹ میں سیٹ مل گئی۔ وہاں کی صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے۔ تمام لوگ ٹھیک ہیں اور سیاح بھی خوشی خوشی دبئی گھوم رہے ہیں۔‘‘
دبئی سے پونے ایئرپورٹ پہنچے ایک مسافر نے کہا کہ ’’گھر واپس آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ وہاں کی صورتحال کافی تناؤ والی ہے اور کئی پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں۔ میں گزشتہ ایک ہفتے سے فلائٹ بُک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہندوستانی سفارت خانہ اور ہندوستانی حکومت بہت مددگار اور فعال ہیں، جو تمام ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہاں کی حکومت نے سب کو محفوظ رکھا اور انہیں الرٹ رہنے کو کہا۔
قابل ذکر ہے کہ وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال پر اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم سے 7 مارچ کے درمیان 52,000 سے زائد ہندوستانی شہری محفوظ طریقے سے خلیجی ممالک سے ہندوستان واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان میں سے 32,107 ہندوستانی ایئر لائنز کے ذریعے، جبکہ بقیہ لوگ غیر ملکی کمرشل پروازوں اور نان-شیڈولڈ پروازوں کے ذریعے واپس آئے ہیں۔ وزارت کی جانب سے کہا گیا کہ جن علاقوں میں فضائی سروس دستیاب نہیں ہے، وہاں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے متبادل راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
































