
پس منظر میں ایران کے پرچم کی تصویر اے پی/پی ٹی آئی کی ہے۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل کےحملوں کے درمیان اصغر وجاہت کی کتاب چلتے تو اچھا تھاکا یہ اقتباس خاص معنی اختیار کر لیتا ہے۔ یہ مضمون امریکہ کے ساتھ ایران کے تصادم کے تاریخی پس منظر کو پرت در پرت کھولتا ہے۔ 1953 کی بغاوت سے لے کر 1979 کے اسلامی انقلاب اور امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران تک کے واقعات بتاتے ہیں کہ آج کی کشیدگی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ موجودہ جغرافیائی و سیاسی بحران کو سمجھنے کے لیے یہ متن اہم پس منظر فراہم کرتا ہے۔
دوست اکیلا، دشمن زمانہ
ایران کا دشمن کون ہے، یہ طے ہو چکا ہے۔ دوست کون ہے، یہ طے ہونا باقی ہے۔ ایران ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور منطق یہ کہتی ہے کہ ایران کی دوستی سعودی عرب سے ہونی چاہیے کیونکہ وہاں بھی اسلامی نظام نافذ ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایران کے مسلمان شیعہ ہیں۔ اسلام کی پوری تاریخ میں شیعہ اور سنی ایک دوسرے سے خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب ایک عرب ملک ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عربوں (عرب مسلمانوں) نے ہی ایرانیوں کو شکست دے کر ایرانی سلطنت کا خاتمہ کیا تھا، اس لیے عربوں سے فاصلہ فطری ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ایرانی اپنے آپ کو عربوں سے زیادہ مہذب، نفیس اور شائستہ سمجھتے ہیں۔ سیاسی سطح پر سعودی عرب امریکہ کا دوست ہے اور ایران دشمن۔
جہاں تک ہمسایہ ممالک کا تعلق ہے، آذربائیجان کے علاوہ کسی پڑوسی ملک میں بڑی شیعہ آبادی نہیں ہے۔ ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان سابق سوویت یونین کا حصہ رہے ہیں۔ وہاں شیعہ آبادی کافی کم یا بالکل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوویت یونین میں رہنے کے باعث ان معاشروں میں مذہب کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ایرانی معاشرے میں ہے۔
آذربائیجان میں شیعہ آبادی ہے، لیکن وہ کافی الگ طرح کے شیعہ ہیں۔ باکو (آذربائیجان کا دارالحکومت) میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے گفتگو کے دوران میں نے پوچھاتھا؛
تم شراب پیتے ہو؟
ہاں، پیتا ہوں۔
تم سور کا گوشت کھاتے ہو؟
کھاتا ہوں۔
پھر تم مسلمان کیسے ہوئے؟
کیوں؟ شراب پینے اور سور کا گوشت کھانے کا اسلام سے کیا تعلق؟ اس نے بھولے پن سے پوچھا تھا۔
یقیناً ایسے مسلمانوں کو ایران اپنا دوست نہیں مان سکتا۔ دنیا میں ایک اور ملک جہاں بڑی شیعہ آبادی ہے، وہ عراق ہے۔ دراصل ایران اورعراق جنگ کے پس منظر میں یہ پہلو بھی شامل تھا۔ جہاں تک عراق کے شیعوں کا تعلق ہے، وہ یقیناً ایران کے حامی ہیں اور ایران بھی ان کی حمایت کرتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ عراق میں سنی بھی ہیں اور عراق کی حکومت رسمی طور پر ایران سے دوستی بنانے کی وجہ سے مشکلات میں پڑ سکتی ہے۔
اس لیے دیکھا جائے تو ایران کے ممکنہ دوستوں کی فہرست میں پاکستان ہی ہو سکتا تھا، مگر وہ امریکہ کے اثر و رسوخ میں اس قدر ہے کہ ایرانی گھبراتے ہیں۔ ہندوستان بھی ایسے دوستوں میں شمار ہوتا ہے جس پرزیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح دیکھا جائے تو ایران تنہا ملک ہے۔
تہران میں میٹرو کے طالقانی اسٹیشن کے قریب امریکی سفارت خانے کی وہ تاریخی عمارت ہے جس کے اندر ایرانی دہشت گردوں نے1979میں 90 امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ یرغمال بنائے جانے کے دو ہفتے بعد 13 امریکی خواتین کو رہا کر دیا گیا تھا۔ ان دہشت گردوں کو پورے ایران اور آیت اللہ خمینی کی حمایت حاصل تھی۔ ان کے مطالبات میں ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ امریکہ میں پناہ لینے والے شاہ کو واپس ایران بھیجا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔
امریکی سفارت خانے کے یرغمالیوں کو چھڑانے کی ڈرامائی کوششوں میں آٹھ امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ ایران نے 444 دن بعد 52 امریکی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا۔
آج امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ امریکی سفارت خانے کی عمارتوں پر بڑے بڑے حروف میں امریکہ مخالف نعرے لکھے ہوئے ہیں، مثلاً-امریکہ کی موت،امریکہ کو کچل دو، ہم امریکہ کو شکست دیں گے وغیرہ-وغیرہ ۔
ایران اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کی تاریخ پرانی ہے۔ ایران کے تیل پر اپنا اور مغرب کا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے امریکہ نے جو پرتشدد، مجرمانہ اور قابل نفرت اقدامات کیے ہیں، ان کی فہرست طویل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1979 میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنانے کا واقعہ 1953 میں سی آئی اے کی جانب سے ایران کے قومی رہنما اور منتخب وزیراعظم غلام محمد مصدق کی حکومت کا تختہ پلٹنے اور ان کے قتل سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں ایرانیوں کو جیل میں شدید اذیتیں دی گئی تھیں، ہزاروں کو قتل کیا گیا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ ایران کی پوری تاریخ ہی پلٹ گئی تھی۔ شاہ کو اقتدار میں لانے کے بعد سی آئی اے کاشکنجہ ایران پر بہت سخت تھا۔ ہلاکتوں اور اذیتوں کا سلسلہ مسلسل چلا تھا۔
سی آئی اے کی دستاویز سے ہی اب یہ مستند ثبوت ملے ہیں کہ ایران کے قوم پرست وزیراعظم کی حکومت گرانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ نے جنرل فضل اللہ زاہدی اور فوج کو پانچ ملین ڈالر دیے تھے۔ اس وقت ایران میں کمیونسٹ پارٹی خاصی بااثر تھی جو منتخب وزیراعظم کی حمایت کر رہی تھی۔ سی آئی اے نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایران کے مذہبی رہنماؤں پر حملے کروائے تھے اور یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ یہ حملے کمیونسٹ کر رہے ہیں۔ اس طرح عوام کمیونسٹوں کے خلاف ہو گئے تھے۔ اس کے بعد فوج سڑکوں پر نکل آئی تھی۔ مغرب نے ایران کی ناکہ بندی کر دی تھی اور ان کے بینکوں میں موجود ایران کا سرمایہ ضبط کر لیا گیا تھا، جس سے افراتفری پھیل گئی تھی۔ شاہ نے منتخب حکومت کو تحلیل کر دیا تھا اور مصدق کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ ایران کے تیل پر امریکہ اور برطانیہ کی کمپنیوں کا اجارہ قائم ہو گیا تھا جو 1978 میں شاہ کے زوال تک برقرار رہا۔ نہ صرف ایران کے تیل پر اجارہ داری سے امریکی کمپنیوں نے بے پناہ دولت کمائی بلکہ 1950 سے 1977 کے درمیان ایران کو 18.1 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کر کے بھی امریکہ نے بھاری منافع کمایا تھا۔
شاہ کی خفیہ پولیس ساواک کے مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1976 کی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ ‘دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت ایران میں دی جاتی ہے۔ کسی طرح کی قانونی عدالتیں نہیں ہیں اور تشدد کی تاریخ ناقابل یقین ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس کا انسانی حقوق کا ریکارڈ ایران سے بدتر ہو۔ شاہ کی خفیہ پولیس ساواک کو سی آئی اے سے مکمل تربیت، اسلحہ اور تعاون حاصل تھا۔
یہ وہ پس منظر ہے جس کے بغیر ایران اور امریکہ کے تعلقات کو سمجھنا ممکن نہیں۔ ایران کا دشمن نمبر ایک امریکہ ہے، اور اس کے بعد امریکہ کے اتحادی ممالک جیسے برطانیہ وغیرہ آتے ہیں۔
امریکہ مخالف جذبات کے باوجود ایران میں امریکی طرز زندگی خاص طور پر نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔ جینز، امریکی کھانے پینے کی اشیاء اور امریکی فلموں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
امریکی طرز کے مطابق گھروں کی سجاوٹ اور بناوٹ بھی کافی مقبول ہے۔ جس طرح امریکہ نے سوویت عوام کے ذہنوں پر اپنی خوشحالی کا سکہ بٹھایا تھا اور اسے قابل تقلید بنایا تھا، اسی طرح ایرانیوں کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکی کمپنیوں کی جینز پہننا، امریکی فیشن کی پیروی کرنا اور امریکی طرز زندگی کے اقدار کے لیے جوش و خروش دراصل ایک طرح کے نظام کی مخالفت کی علامت بھی بن گیا ہے۔
یہ بات انتہائی دلچسپ ہے کہ سیاسی سطح پر امریکہ دشمنی ثقافتی میدان میں امریکہ نوازی میں بدل جاتی ہے۔ سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں میں امریکہ سے لوہا لینے کی شدیدخواہش ہے، لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ عوام میں یہ قوت کس حد تک موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قومی بحران کے وقت ایران میں بے مثال اتحاد قائم ہو جاتا ہے، مگر 1953 کی سی آئی اے کی سرپرستی میں ہونے والی بغاوت، شاہ کی حکومت اور اس کے بعد کے حالات اس دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔
ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
(بہ شکریہ: راجکمل پرکاشن)





