وزیر اعظم مودی نے یو اے ای کی حمایت کے بعد نیتن یاہو سے بات کی، دشمنی جلد ختم کرنے کی اپیل

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 2, 2026361 Views


امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ہندوستان نے اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ وہیں، متحدہ عرب امارات پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کرنے کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کی اور جلد از جلد دشمنی ختم کرنے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی اپنے اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو کے ساتھ اسرائیل میں ایک میٹنگ  کے دوران۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کرنے کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو سے بات چیت کی اور جلد سے جلد کشیدگی ختم کرنے کی اپیل کی۔ تاہم، امریکہ-اسرائیل حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر نئی دہلی نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سوموار  (2 مارچ) کی صبح سویرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ ‘خطے کی صورتحال’ پر تبادلہ خیال کیا، حالیہ پیش رفت کے حوالے سے ہندوستان کی تشویش ظاہر کی اور اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان  لڑائی جلد  ختم کیے جانے  کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

نیتن یاہو سے یہ بات چیت مودی کی اتوار کی رات یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے مودی کی ٹیلی فون پربات کرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوئی، جس میں انہوں نے اماراتی علاقے پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور یو اے ای کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

تہران کی جانب سے تصدیق کے باوجود امریکہ -اسرائیل حملوں میں خامنہ ای کی ہلاکت  کے حوالے سے ہندوستان نے کوئی علیحدہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ابتدائی حملوں کے بعد وزارت خارجہ نے صرف ایک عمومی بیان میں ‘تحمل’ اور ‘مکالمے’ کی اپیل کی تھی۔

چند روز قبل 25 فروری کو، ممکنہ کشیدگی کے  سایے کے باوجود مودی اسرائیل کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے تل ابیب کے ساتھ ہندوستان کی یکجہتی کا اظہار کیا اور مغربی ایشیا میں مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کی۔

مودی کے واپس آنے کے دو دن بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے، جس کے نتیجے میں پورے خطے میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

شیخ محمد سے بات چیت میں مودی نے کہا کہ انہوں نے ‘یو اے ای پرہوئے  حملوں کی شدید مذمت کی اور ان حملوں میں جان گنوانے والے افراد کےلیے تعزیت پیش کی۔’ تاہم، مودی  نے ایران کا نام نہیں لیا، لیکن ان کا بیان اس تیزی سے بڑھتے تنازعہ میں کسی بھی فریق کے خلاف ہندوستان کی پہلی باضابطہ مذمت تھی۔

انہوں نے یو اے ای میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اماراتی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور ‘کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن، سلامتی اور استحکام’ کے لیے ہندوستان کی حمایت کو دہرایا۔

ابوظہبی میں ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی کہ حملوں میں زخمی ہونے والے 58 افراد میں ایک ہندوستانی شہری بھی شامل ہے، جو اب خطرے سے باہر ہے اور اسے ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

یو اے ای میں تقریباً 39 لاکھ ہندوستانی مقیم ہیں، جو بیرون ملک ہندوستان کی سب سے بڑی تارکین وطن برادری ہے۔ گزشتہ مالی سال میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 100 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

گزشتہ28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فوجی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ٹھکانوں، میزائل تنصیبات اور جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ایران کی ریڈ کریسنٹ کے مطابق، ان حملوں میں خامنہ ای سمیت ان کے قریبی ساتھی ہلاک ہوئے۔ 24 صوبوں میں مجموعی طور پر 201 افراد ہلاک ہوئے اور 747 زخمی ہوئے۔ حملوں کے دوران تین امریکی فوجی بھی مارے گئے۔

اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور یو اے ای سمیت خلیجی ممالک پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے حملے کیے۔

یو اے ای کی وزارت دفاع کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے 167 میزائل اور 541 ڈرون مار گرائے، تاہم 35 حملے اماراتی سرزمین پر گرے، جن میں تین افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوئے۔

ایک ڈرون ابوظہبی کے السلام بحری اڈے سے ٹکرایا۔ دبئی ایئرپورٹ کے ایک حصے کو نقصان پہنچنے اور چار ملازمین کے زخمی ہونے کے بعد اسے خالی کرا لیا گیا۔ برج العرب اور پام جمیرہ میں گ لگ گئی۔

یو اے ای نے تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے اور ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا، اور ایرانی میزائل حملوں کو ‘قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی’قرار دیا۔

یو اے ای میں پھنسنے والوں میں ہندوستانی بیڈمنٹن اسٹار اور دو بار کی اولمپک میڈل جیتنے والی پی وی سندھو بھی شامل تھیں، جو برمنگھم میں آل انگلینڈ اوپن چیمپئن شپ کے لیے دبئی کے راستے سفر کر رہی تھیں۔ سندھو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ‘اوپر سے انٹرسیپٹ کی آواز سننا اور حالات کو تیزی سے بگڑتے دیکھنا واقعی خوفناک ہے۔’ بعد میں انہوں نے بتایا کہ جہاں ان کے کوچ کھڑے تھے وہاں سے تقریباً 100 میٹر دور دھماکہ ہوا، جسے انہوں نے ‘واقعی ہلا دینے والا تجربہ’ قرار دیا۔

دریں اثنا،  بی جے پی کے خارجہ امور کے انچارج وجئے چوتھائی والے نے یو اے ای کو نشانہ بناتے ہوئے ہندوستانی ایکس  صارفین کی جانب سے کیے گئے آن لائن تبصرے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا پوسٹ سوشل میڈیا پر کئے گئے بعض تبصروں کی جانب اشارہ کرتا نظر آیا، جن میں مقتدرہ جماعت کے رکن پارلیامنٹ کا تبصرہ بھی شامل ہے۔جس میں کہا گیا تھا  کہ حملوں کے بعد مودی کی قیادت میں ہندوستان زیادہ محفوظ ہے اور دبئی میں نوکری اور ٹیکس فوائد کے لیے جانےوالوں کے یہ پیش رفت ایک ‘سبق’ ہے۔

چوتھائی والے  نے ایکس پر لکھا،’جب کوئی ملک حملے کا سامنا کر رہا ہو تو ہندوستان میں کچھ لوگوں کی جانب سے یو اے ای کے خلاف  ہلکے تبصرے کرنا قابل مذمت ہے۔’ انہوں نے اپنے پوسٹ میں ہندوستانی اور یو اے ای کے سفارت خانوں، وزیر خارجہ ایس جئے  شنکر اور وزیر اعظم مودی کو ٹیگ کیا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...