سعودی عرب کی خفیہ سفارت کاری

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 2, 2026360 Views


محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔ سلمان کی لابنگ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔

اسرائیل کے تل ابیب میں ایران کےحملے کے بعد امدادی کارکن اور فوجی اہلکار جائے وقوعہ کا معائنہ کر تے ہوئے۔ (تصویر: اے پی)

مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ’برادرانہ تعلقات‘ اور ’اسلامی یکجہتی‘ جیسے الفاظ اکثر اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں، جب بات علاقائی بالادستی اور تزویراتی مفادات کی ہو۔

تہران پر حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات نے اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔

حالیہ رپورٹس، جن کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ڈونالڈ ٹرمپ کو متعدد بار فون کر کے ایران پر فوجی حملے کے لیے اُکسایا، اس پورے بحران کو ایک نیا زاویہ عطا کرتی ہیں۔

یہ محض ایک پڑوسی کی دوسرے پڑوسی کے خلاف دشمنی نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچی سمجھی ’خفیہ سفارت کاری‘ ہے جو عالمی امن کے لیے سنگین سوال کھڑے کرتی ہے۔

سب سے پہلے اس تضاد کو سمجھنا ضروری ہے جو سعودی خارجہ پالیسی کا خاصہ رہا ہے۔ گزشتہ برس چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے ایک نئے عہد کا آغاز قرار دیا گیا تھا۔

لیکن حالیہ انکشافات بتاتے ہیں کہ وہ ’بیجنگ ڈیل‘ دراصل ایک تزویراتی وقفہ تھا، نہ کہ کوئی مستقل حل۔ ایک طرف تہران کے ساتھ ہاتھ ملانا اور دوسری طرف واشنگٹن میں بیٹھ کر اسی تہران پر بمباری کی لابنگ کرنا اکیڈمک سطح پر ’تزویراتی دوئی کی بدترین مثال ہے۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب کے لیے تہران کا ایٹمی اور فوجی اثر و رسوخ ایک ایسا وجودی خطرہ ہے جسے وہ کسی بھی قیمت پر—چاہے وہ کسی دوسرے ملک کی مکمل تباہی ہی کیوں نہ ہو—ختم دیکھنا چاہتا ہے۔

دوسرا اہم نکتہ ڈونالڈ ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے درمیان موجود ’تجارتی اور تزویراتی تال میل‘ کا ہے۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ’لین دین‘ رہی ہے۔

محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔

اکیڈمک ماہرین، بشمول اسٹیون لیویٹسکی، یہ بحث کرتے ہیں کہ انتخابی آمریتیں یا پاپولسٹ حکمران (جیسے ٹرمپ اور محمد بن سلمان) اکثر ایک دوسرے کی آمرانہ جبلتوں کو سہارا دیتے ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان  کا ٹرمپ کو کال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب اب اپنی سکیورٹی کے لیے اسرائیل اور امریکہ کے اس ’اینٹی ایران بلاک‘ کا غیر اعلانیہ حصہ بن چکا ہے جس کا حتمی ہدف خطے میں طاقت کا توازن مستقل طور پر تہران کے خلاف جھکانا ہے۔

یہ صورتحال ہندوستان جیسے ممالک کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ اگر ایک علاقائی طاقت (سعودی عرب) اپنے مفادات کے لیے ایک سپر پاور کو پڑوسی ملک پر حملے کے لیے استعمال کر سکتی ہے، تو بین الاقوامی قوانین اور ’خود مختاری‘ کے تصورات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟


محمد بن سلمان کی یہ لابنگ ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔


تہران پر حملے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے کی جانے والی لابنگ محض ایک وقتی اشتعال نہیں، بلکہ یہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے ’تزویراتی نقشے‘ کی تخلیق کی کوشش ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان۔ فائل فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی

اکیڈمک نقطہ نظر سے اسے ’توازنِ خطرہکے نظریے کے تحت دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ایک ریاست اپنے سے زیادہ طاقتور حریف (ایران) کو کچلنے کے لیے ان طاقتوں سے اتحاد کر لیتی ہے جو تاریخی طور پر اس کے ایجنڈے کے خلاف رہی ہیں۔

سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بننے والی یہ ’غیر اعلانیہ تثلیث‘اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مشرق وسطیٰ میں سیاست کا محور ’مقدس مقامات‘ کی حفاظت نہیں بلکہ ’اقتدار کی بقا‘ اور ’معاشی اجارہ داری ‘ ہے۔

ریاض کی تزویراتی حکمت عملی اب بالکل واضح ہو چکی ہے؛ وہ اپنی فوجی قوت کو براہ راست ایران کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کی طاقت کو بطور ’پراکسی‘ استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ سعودی عرب کے ’ویژن 2030‘کو جلا کر راکھ کر دے گی۔

لہٰذا، ڈونالڈ ٹرمپ کو حملے کے لیے اکسانا اور اسرائیل کی تکنیکی برتری کو راستہ دینا ایک ایسی مکارانہ چال ہے جس کا مقصد ’بغیر کسی نقصان کے فائدہ‘ حاصل کرنا ہے۔ یہ وہی ریئل پولیٹک ہے جہاں اخلاقیات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

اس پوری لابنگ کے پیچھے ایک بڑا معاشی ایجنڈا بھی چھپا ہوا ہے۔ ’انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور (آئی ایم ای سی) ‘کی کامیابی کے لیے خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کا خاتمہ ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ ایران اور اس کے حلیف (حزب اللہ، حوثی) اس کوریڈور کے لیے ایک تزویراتی خطرہ ہیں۔

سعودی ولی عہد کی ٹرمپ سے گفتگو دراصل اس معاشی رکاوٹ کو راستے سے ہٹانے کی ایک کوشش تھی تاکہ ریاض مشرق وسطیٰ کا واحد معاشی اور سیاسی مرکز بن کر ابھر سکے۔

سعودی عرب کا یہ رویہ 57 اسلامی ممالک کی تنظیم(’اوآئی سی‘) کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔ جب دنیا کا سب سے بااثر مسلم ملک کسی غیر مسلم طاقت کو دوسرے مسلم ملک  پر حملے کے لیے اُکساتا ہے، تو ’اسلامی بلاک‘ کا نظریہ علمی اور عملی طور پر دم توڑ دیتا ہے۔

یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ اب عالمی سیاست میں ’مذہبی عصبیت‘ صرف عوام کو الجھانے کے لیے ہے، جبکہ حکمرانوں کے فیصلے خالصتاً مادی اور تزویراتی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔

ایران کو ’شیعہ شناخت‘ کی بنا پر نشانہ بنوانا دراصل مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کی اس خوف کی عکاسی ہے کہ اگر تہران طاقتور رہا تو ان کے بادشاہتی نظاموں کو ’عوامی انقلاب‘ کا خطرہ لاحق رہے گا۔

ہندوستان کے لیے اس انکشاف میں ایک گہرا تازیانہ چھپا ہوا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کے معمار اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مشرق وسطیٰ کے تمام فریقین کے ساتھ ’توازن‘ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

لیکن جب آپ کا ایک ’تزویراتی پارٹنر‘ (سعودی عرب) آپ کے دوسرے  ’توانائی پارٹنر‘  (ایران) کو نیست و نابود کرنے کی سازش کر رہا ہو، تو آپ کی غیر جانبداری بے معنی ہو جاتی ہے۔

ہندوستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کے ریتلے میدانوں میں وفاداریاں پل بھر میں بدل جاتی ہیں۔ ٹرمپ کی ’یو ایس ڈیل‘ اور مودی جی کی خاموشی ہمیں اس گرداب میں دھکیل رہی ہے جہاں ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی لابنگ یہ ثابت کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اب ’دشمن کا دشمن دوست‘ والا فارمولا عروج پر ہے۔ تہران کے شعلوں پر ریاض کی خاموشی اور واشنگٹن میں ہونے والی خفیہ فون کالز ایک مہیب مستقبل کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

یہ جنگ صرف ایران کے خلاف نہیں، بلکہ ہر اس ملک کے خلاف ہے جو اپنی خود مختاری کا سودا کرنے پر تیار نہیں۔

ہندوستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے؛ کیا ہم اس ’تثلیث‘ کا حصہ بن کر اپنے دیرینہ تزویراتی مفادات کو قربان کر دیں گے یا ایران کی مزاحمت سے سبق سیکھ کر اپنی عزت نفس کو ترجیح دیں گے؟

تاریخ کا فیصلہ ان کالز کے ڈیٹا میں نہیں، بلکہ ان قوموں کے فیصلوں میں لکھا جائے گا جنھوں نے تہران کے شعلوں میں اپنی اخلاقیات کو جلنے سے بچایا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...