’’میں یوتھ کانگریس کے ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، جنھوں نے نریندر مودی کے سامنے جا کر بتا دیا کہ غریبوں کے پاس کھانا نہیں ہے، وہ بھوکے پیٹ ہیں۔ یہ ظاہر کر دیا کہ ملک کا نوجوان ملازمت نہ ہونے کے سبب سڑک پر ہے اور ہمارے کسان بے حد پریشان ہیں، تجارتی معاہدہ مت کیجیے۔ لیکن مودی حکومت نے اسے ملک کی بے عزتی قرار دے دیا۔ ملک کی بے عزتی تو تب ہوئی جب مودی جی نے ٹرمپ کے سامنے ہمارا وقار گروی رکھ دیا۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مدھیہ پردیش واقع بھوپال میں کانگریس کے ذریعہ منعقد ’کسان مہاچوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
کانگریس صدر نے لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب ملک میں ’کامن ویلتھ گیمز‘ ہوا تھا، تب بی جے پی کے لوگوں نے گاڑیاں روکیں، سیاہ پرچم دکھائے۔ آج یہی لوگ کانگریس پر ملک کی بے عزتی کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پارٹی نے ملک کا وقار بچایا ہے، ملک کے لیے قربانی دی ہے۔ کانگریس کبھی کسی کی جان نہیں لیتی۔ ہمارے پاس بی جے پی کی طرح کوئی ’گوڈسے‘ نہیں ہے، ہمارے پاس ’گاندھی‘ ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی ہمیشہ سے امریکہ کے صدر ٹرمپ کو اپنا دوست بتاتے ہیں۔ اپنی دوستی کے ڈھول پیٹتے ہوئے کہتے تھے– ہم تو چائے پر بات کرتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ سے مودی کیا بات کرتے تھے، کیا وہ ملک کو فروخت کرنے کی بات کرتے تھے؟ کیا وہ کسانوں کو فروخت کرنے کی بات کرتے تھے؟ کیا ہمیں غلامی میں ڈالنے کی بات کرتے تھے؟ میں نے اپنی زندگی میں اتنا ڈرپوک وزیر اعظم کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ملکارجن کھڑگے آگے کہتے ہیں کہ ’’میں 60 سال سے سیاست میں ہوں، لیکن میں نے ایسا وزیر اعظم کبھی نہیں دیکھا، جو اپوزیشن سے آنکھ نہیں ملا پاتا، ایوان میں اپنی بات نہیں رکھ پاتا، ایک پریس کانفرنس تک نہیں کر پاتا۔‘‘ انھوں نے تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی کانگریس کو ڈرانے کا کام کر رہے ہیں، لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ کانگریس پارٹی نے انگریزوں کو بھگا دیا اور آزادی لی۔ اس وقت بی جے پی کے آبا و اجداد سرینڈر کر رہے تھے اور معافی نامہ لکھ رہے تھے۔‘‘
کانگریس صدر کھڑگے نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو ہندوستانی کسانوں کے لیے خسارے کا سودا قرار دیا۔ انھوں نے بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے کسان جو بھی پیداوار کرتے ہیں، انھیں مودی حکومت میں فصل کی صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے۔ اب امریکہ اپنے گھٹیا سامانوں کو ہندوستان میں لا کر سستے میں فروخت کرے گا۔ ہمارے کسانوں کو ختم کرنے کے لیے ہی ٹرمپ نے ایسا معاہدہ تیار کیا ہے، جس میں مودی ملک کے کسانوں کے ساتھ نہیں، بلکہ ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جو لوگ خود کو کسانوں کا حمایتی بتاتے ہیں، وہی آج ٹرمپ کی تعریف کر رہے ہیں۔ کانگریس حکومت میں منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کام کے حقوق، تعلیم کے حقوق، فوڈ سیکورٹی ایکٹ جیسے منصوبے لے کر آئے۔ نریندر مودی کبھی عوام کے مفاد میں کوئی قانون نہیں لائے، کیونکہ ان کا کام صرف نام بدلنے کا ہے۔‘‘
اپنی تقریر کے دوران ملکارجن کھڑگے نے ہند-پاک جنگ بندی سے متعلق ٹرمپ کے دعووں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ٹرمپ کہتے ہیں– میں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی۔ مودی نے اس بات پر ایک لفظ نہیں کہا، اور آج وہ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ اس لیے میں آپ سبھی سے اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ڈرو مت، کیونکہ آپ کو آئین اور جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے۔ آپ مضبوطی سے لڑیے، کانگریس پارٹی آپ کے ساتھ ہے۔‘‘ بعد ازاں ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں یہ تجارتی معاہدہ منظور نہیں، کسانوں کی روٹی پر حملہ منظور نہیں، ملک کی توانائی سیکورٹی سے کھلواڑی منظور نہیں، ہندوستان کی خود مختاری و خود کفیلی سے سمجھوتہ منظور نہیں۔ ہندوستان خود کفیل رہنا چاہتا ہے، وقار کے ساتھ جینا چاہتا ہے، کسی سے ڈرنا نہیں چاہتا۔‘‘
کانگریس صدر نے ٹرمپ کی ہر بات پی ایم مودی کے ذریعہ ماننے پر حیرانی ظاہر کی۔ خاص طور سے کم قیمت پر روس سے مل رہے تیل کی خریداری بند کرنے کو انھوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان پہلے روس اور ایران سے سستی شرح میں تیل خریدتا تھا، لیکن ٹرمپ نے حکم دیا کہ اب روس، ایران سے تیل نہیں خریدنا ہے۔ نریندر مودی نے اس حکم کو بھی مان لیا۔ اس لیے ایسے لوگ بہت دنوں تک اگر حکومت میں رہے تو ملک کو بہت نقصان پہنچائیں گے۔‘‘
اپنی تقریر کے دوران کانگریس صدر کھڑگے نے مودی حکومت کے ذریعہ منریگا منصوبہ کو ختم کیے جانے کا ذکر بھی کیا، اور کہا کہ اسے پھر سے بحال کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی کو منریگا منصوبہ کو واپس بحال کرنا پڑے گا۔ نیا قانون غریبوں کے لیے نقصاندہ ہے، اس لیے ہم سبھی منریگا کو بچانے کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































