چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت 23 فروری کو ایک معاملہ پر سماعت کے دوران سینئر وکیل میتھیوز نیدومپارا پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ سینئر وکیل کی بات پر وہ اس قدر برہم ہوئے کہ وکیل کو تقریباً ڈانٹتے ہوئے متنبہ کر ڈالا کہ ان کی عدالت میں یہ بدتمیزی نہیں چلے گی۔
دراصل سینئر وکیل میتھیوز نیدومپارا نے چیف جسٹس آف انڈیا کی بنچ کے سامنے کہا کہ ایک عرضی داخل کی گئی تھی، جس میں عدلیہ کے کالجیم سسٹم کو چیلنج پیش کیا گیا اور ججوں کی تقرری کے لیے نیشنل جیوڈیشیل اپوائنٹمنٹ کمیشن کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جواب میں چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ایسی کوئی عرضی رجسٹر نہیں ہے۔ یہ سن کر ایڈووکیٹ نیدومپارا نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’اڈانی و امبانی کے لیے آئینی بنچ تشکیل دی جاتی ہے، اور عام لوگوں سے جڑے ایشوز پر سماعت ہی نہیں ہوتی۔‘‘ یہ سننا تھا کہ سی جے آئی سوریہ کانت سخت ناراض ہو گئے۔
’لائیو لاء‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ میتھیوز کی بات سے چیف جسٹس آف انڈیا اس قدر ناراض ہوئے کہ انھوں نے فوراً انھیں متنبہ کیا اور کہا کہ ’’مسٹر نیدومپارا، آپ میری عدالت میں جو کہہ رہے ہیں، اسے سوچ سمجھ کر بولیے۔ آپ نے چنڈی گڑھ میں بھی مجھے دیکھا ہے، دہلی میں بھی۔ یہ مت سوچیے کہ جیسے آپ دوسری بنچ کے ساتھ بدتمیزی کرتے رہے ہیں، ویسے ہی آپ میری عدالت میں بھی بدتمیزی کریں گے۔ میں آپ کو تنبیہ کرتا ہوں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ 2024 میں سپریم کورٹ کے رجسٹری ڈپارٹمنٹ نے نیدومپارا کی عرضی کو رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ رجسٹری ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ پہلے ہی نیشنل جیوڈیشیل اپوائنٹمنٹ کمیشن پر فیصلہ ہو چکا ہے، ایسے میں اسی ایشو پر نئی عرضی سماعت کے لائق نہیں ہے۔ بہرحال، پہلی بار ایسا نہیں ہوا ہے کہ ایڈووکیٹ نیدومپارا کے تئیں کسی جج نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ گزشتہ سال اُس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے بھی انھیں ایک معاملہ میں پھٹکار لگائی تھی۔ تب جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا تھا کہ ’’عدالت میں سیاسی تقریر مت کیجیے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































