نفرت کے مقابل روشن چراغ، عوامی مزاحمت کی نئی داستان…نندلال شرما

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 22, 2026360 Views


14 فروری، ویلنٹائن ڈے، کو جے پور سے ایک ویڈیو سامنے آیا۔ اس ویڈیو میں کچھ نوجوان گلے میں زعفرانی پٹکا ڈالے اور ہاتھوں میں ڈنڈا لیے پارک میں گھومتے نظر آئے۔ وہ پارک میں بیٹھے نوجوان لڑکے لڑکیوں سے ان کا مذہب اور آپسی تعلق پوچھتے اور انہیں دھمکاتے ہیں۔ اسی دوران پارک میں موجود کچھ نوجوان انہیں گھیر لیتے ہیں اور ان سے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پوچھتے ہیں: “کیا تم پولیس والے ہو؟ یا کس تنظیم سے ہو؟ تمہارا لیڈر کون ہے؟” جواب میں وہ صرف یہ کہتے ہیں: “یہ پٹکا دیکھو، ہم بجرنگ دل سے ہیں۔” لیکن پارک میں موجود لوگوں کے سوالوں کے دباؤ کے باعث انہیں الٹے پاؤں واپس جانا پڑا۔

ایسا ہی ایک ویڈیو وارانسی سے بھی سامنے آیا جہاں پولیس اور انتظامیہ کا عام سا رویہ فرقہ وارانہ عناصر کی حوصلہ افزائی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ان کے طرز عمل سے اکتا چکے لوگ یہاں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ وارانسی وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ یہاں 60 سال پرانی بکرامنڈی ہے۔ مقامی گوشت یونین کے قانونی مشیر عبداللہ بتاتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے افواہ پھیلا دی کہ منڈی میں گؤ کشی ہو رہی ہے۔ جانچ کے نام پر کچھ لوگ دکانداروں کے لائسنس چیک کرنے پہنچ گئے۔ یہ دو درجن افراد خود کو افسر بتا رہے تھے۔ مقامی باشندہ عادل خان کہتے ہیں کہ منڈی سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ افواہ پھیلا کر لوگوں کی روزی روٹی کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ یہاں بھی کچھ لوگ احتجاج میں کھڑے ہوئے اور ان ‘افسروں’ کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...