
گلوبل ولیج کا تصور جدید دور کی پیداوار سمجھا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ انسانی تاریخ کے ایک طویل ارتقائی سفر کا نتیجہ ہے۔ آج انٹرنیٹ، سیٹلائٹ اور تیز رفتار ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک گاؤں کی شکل دے دی ہے، مگر اگر ہم ساتویں صدی عیسوی کے عالمی منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ انسانیت پہلی بار حقیقی معنوں میں باہم جڑنے لگی تھی۔ رومی اور فارسی سلطنتیں وسیع جغرافیوں پر محیط تھیں، شاہراہِ ریشم مشرق و مغرب کو ملاتی تھی، بحری تجارت عرب، افریقہ اور ایشیا کو قریب لا رہی تھی، اور علمی و فکری تبادلہ بڑھ رہا تھا۔ دنیا مکمل طور پر مربوط نہیں ہوئی تھی، مگر “عالمی شعور” کی بنیادیں رکھ دی گئی تھیں۔
ایسے دور میں اگر کوئی پیغام خود کو محض ایک قبیلے یا خطے تک محدود نہ رکھے بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کرے، تو یہ محض مذہبی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخی تقاضا بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کے عالمگیر تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔





