نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے ہند-امریکہ تجارتی سمجھوتے کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے اسے متوازن معاہدہ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حقیقی سمجھوتے کی بنیاد لینا اور دینا ہوتی ہے، لیکن اگر ایک فریق زیادہ دے اور بدلے میں اسے محدود فائدہ حاصل ہو تو اسے برابری کا معاہدہ نہیں بلکہ دباؤ کہا جائے گا۔
جے رام رمیش نے واضح کیا کہ وہ محض سیاسی الزام تراشی نہیں کر رہے بلکہ دستیاب حقائق کی بنیاد پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اسی بنیاد پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر یہ سمجھوتہ واقعی ملک کے مفاد میں ہے تو کسان تنظیمیں اور کسان اس کے بارے میں فکرمند کیوں نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان خدشات کا سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے امریکہ کی تجارتی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ وقتاً فوقتاً ٹیرف میں تبدیلی کرتے رہے ہیں اور اپنے قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہندوستان اپنی شرائط پر فیصلے کیوں نہیں کر سکتا۔ جے رام رمیش کے مطابق کسی بھی دوطرفہ معاہدے میں برابری اور توازن بنیادی شرط ہونی چاہیے، لیکن موجودہ سمجھوتے میں ہندوستان کی جانب سے زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں جبکہ بدلے میں حاصل ہونے والے فوائد محدود دکھائی دیتے ہیں۔
کانگریس رہنما نے خبردار کیا کہ اس سمجھوتے کے اثرات آنے والے مہینوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق درآمدات کو زیادہ آزاد بنایا جا رہا ہے اور درآمدی محصولات میں کمی کی جا رہی ہے، جس سے قلیل مدت میں درآمدات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ برآمدات کا ممکنہ فائدہ طویل مدت کے بعد سامنے آئے گا، جبکہ فوری دباؤ مقامی صنعت اور کسانوں پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسی صورت حال میں ملکی مفادات کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔
پارلیمنٹ کے کام کاج پر بھی جے رام رمیش نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان کو منظم طریقے سے چلانے کی بنیادی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اپوزیشن اپنا کردار ادا کرتی ہے، لیکن اگر حکومت سنجیدہ نہ ہو تو کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض اراکین کی جانب سے اپوزیشن لیڈر اور سابق وزرائے اعظم کے خلاف نازیبا بیانات دیے جاتے ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جو جمہوری روایت کے لیے مناسب نہیں۔




































