کیا ہندوستان مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ہے؟ اے آئی امپیکٹ سمٹ کو دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا… نندتا ہکسر

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 21, 2026360 Views


حکومت ہند ظاہر کرتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ہے اور اس نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو 21 سالہ ٹیکس رعایت، زمین، پانی، بجلی اور ڈیٹا فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

’انڈیا اے آئی سمٹ 2026‘ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اس تقریب میں کہا گیا کہ توجہ اے آئی سیفٹی سے ہٹ کر ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مرکوز کی جائے گی، جس کی رہنمائی ’لوگ، سیارہ اور ترقی‘ کے اصول کریں گے۔ ساتھ ہی جامع و ذمہ دار اے آئی گورننس کو فروغ دیا جائے گا۔ ہندوستان نے اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ’انڈیا اے آئی گورننس گائیڈ لائنز‘ بھی جاری کیں۔ یہ فریم ورک ’اصولوں پر مبنی، ٹیکنو-لیگل ایپروچ‘ اختیار کرتا ہے اور نئی ادارہ جاتی ساخت قائم کرتا ہے، جیسے اے آئی گورننس گروپ، ٹیکنالوجی اینڈ پالیسی ایکسپرٹ کمیٹی، اور اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ۔

میڈیا کے ماہرین میں سے بہت کم (اگر کوئی ہیں بھی) نے ہندوستانی عوام کو یہ بتایا ہے کہ یہ اے آئی گورننس گروپ کیا کرے گا، شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کیسے کرے گا، اور خود کو عوام یا پارلیمنٹ کے سامنے کیسے جوابدہ بنائے گا۔ اے آئی گورننس کے فریم ورک کے قیام کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے، جو کسی بھی حکمرانی کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔

مصنف اور کالم نگار ویر سنگھوی نے سمٹ کے اثرات کو یوں سمجھایا کہ ’’آپ مصنوعی ذہانت کا جشن منانا چاہیں گے، لیکن جب بات حکومت ہند کی آتی ہے تو قدرتی ذہانت کی شدید کمی نظر آتی ہے۔‘‘ سنگھوی نے دیگر صحافیوں کی طرح سمٹ کے انتظام میں ہونے والی خرابیوں پر بھی توجہ دی۔ یعنی ٹریفک جام، جنہوں نے نہ صرف عوام بلکہ مندوبین کو بھی شدید مشکلات میں ڈالا۔ وہ مندوبین جو ہندوستانی وزیر اعظم کی جانب سے دیے گئے عشائیہ میں بروقت نہ پہنچ سکے اور 4 گھنٹے ٹریفک میں پھنسنے کے بعد ہوٹل واپس لوٹ گئے۔ سیکورٹی کے بھی مسائل، جن میں چوری کا واقعہ بھی شامل تھا۔ اور وہ خبر بھی، جو بین الاقوامی میڈیا تک پہنچی، یعنی گلگوٹیا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے چین میں تیار کردہ ’روبوٹ ڈاگ‘ کو یونیورسٹی کی ایجاد قرار دیا۔

اس اے آئی سمٹ کے اختتام پر عوام کو اے آئی گورننس کے بارے میں زیادہ باخبر ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان تکرار چھڑ گئی۔ جب پیوش گوئل نے راہل گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ سمٹ کے مقام کے اندر یوتھ کانگریس کے نیم برہنہ احتجاج پر معافی مانگیں، تو خراب حالات کو سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک طرح سے اے آئی گورننس کا اہم اور فوری سوال پس منظر میں چلا گیا، جبکہ میڈیا اور سوشل میڈیا ناقص انتظام اور پولیس و سیکورٹی اہلکاروں کی نااہلی سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام کی خبروں سے بھر گئے۔ اے آئی گورننس صرف ڈاٹا پر کنٹرول کا معاملہ نہیں۔ اس میں وہ فریم ورک، پالیسیاں اور عملی اقدامات شامل ہیں جو یہ یقینی بنائیں کہ اے آئی سسٹمز کو ذمہ داری کے ساتھ تیار، نافذ اور استعمال کیا جائے۔ یہ انصاف اور شفافیت جیسے اخلاقی خدشات کا احاطہ کرتی ہے اور تعصب یا رازداری کی خلاف ورزی جیسے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اے آئی امپیکٹ سمٹ کے تناظر میں اے آئی گورننس کا سوال اس بحث سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پیداواریت اور معاشی ترقی میں اضافہ کرے گی یا بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور بدحالی کا سبب بنے گی۔ کم از کم حکومت ہند سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری اور ہندوستانی ڈاٹا سنٹرز کے استعمال کی ترغیب دینے سے پہلے ایک مضبوط قانونی فریم ورک تیار کرتی تاکہ ہر شعبے میں اے آئی کو منظم اور کنٹرول کیا جا سکے۔

کچھ ممالک، جیسے سنگاپور نے اے آئی گائیڈلائنز جاری کی ہیں جو کارپوریشنز کو خود ضابطہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس کے برعکس یورپی یونین نے اے آئی ایکٹ منظور کیا ہے۔ بڑے کارپوریشنز سے خود احتسابی کی توقع کرنا عملی نہیں لگتا، خاص طور پر ہندوستان میں، جہاں قانون سازی کا کنٹرول، سول سوسائٹی، میڈیا اور عدالتیں ایسے کام کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

کارنیگی یورپ کے لیے لکھتے ہوئے امانڈا کوکلے نشاندہی کرتی ہیں کہ ’’لبرل جمہوریتوں کے لیے مرکزی سوال یہ نہیں کہ اے آئی لیبر مارکیٹس کو بدل دے گی، بلکہ یہ ہے کہ کیا آج کے سیاسی نظاموں میں اتنی ادارہ جاتی صلاحیت ہے کہ وہ جاری تبدیلی کو اس طرح منظم کر سکیں کہ جمہوری رضامندی کی بنیاد بننے والے سماجی معاہدے کو نقصان نہ پہنچے۔‘‘ یورپی یونین نے دنیا کے پہلے جامع قانونی فریم ورک یعنی اے آئی ایکٹ کے ذریعہ کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ایک اخلاقی نقطۂ نظر اختیار کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ لیکن کوکلے کے مطابق ’’سسٹمز کی تیاری اور نفاذ کو منظم کرنا اس بات سے مختلف ہے کہ معاشرے ان کے نتیجے میں آنے والی ساختی معاشی تبدیلیوں کو کیسے جذب کرتے ہیں۔‘‘

جیریمی شیپیرو لکھتے ہیں کہ چین مارکیٹ فورسز پر انحصار کرنے کے بجائے ’انتظامی کنٹرول، نگرانی کے ڈھانچے، اور سماجی خطرات کے براہ راست ریاستی انتظام‘ پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ جبر اور نگرانی چینی نظام کی نمایاں خصوصیات ہیں، لیکن بیجنگ کا اے آئی کے حوالے سے نقطۂ نظر محض آزاد منڈی پر مبنی خودکاری نہیں بلکہ ریاستی طور پر منظم ترتیب بندی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سینٹر فار سیکورٹی اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی کی 2021 کی تحقیق کے مطابق چین پہلے ہی 200 ملین سے زائد نگرانی کیمروں کا نظام چلا رہا تھا، جو شارپ آئیز اور اسکائی نیٹ جیسے قومی پروگراموں میں ضم ہیں۔ اے آئی کے کنٹرول کے اس فریم ورک کی مؤثریت پر مفید بحثیں کم ہی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحت اور تعلیمی اداروں میں اے آئی کے نفاذ کے دوران یہ گائیڈلائنز کس حد تک مؤثر ہوں گی، جبکہ یہ ادارے خود اے آئی سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر گلگوٹیا یونیورسٹی کا واقعہ کوئی اشارہ ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ابھی اے آئی کے لیے تیار نہیں لگتے۔

اے آئی سمٹ میں ہزاروں نوجوان شریک ہوئے جو مصنوعی ذہانت کو حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور یہ وہی نسل ہے جو سوشل میڈیا اور چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ انہیں اے آئی کارپوریشنز پر تنقید اور ماہرین کی ان وارننگز تک رسائی نہیں ملی کہ بغیر اے آئی گورننس کے یہ ٹیکنالوجی مختلف سطحوں پر شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جہاں اسپین اور ڈنمارک جیسے ممالک اسکول کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت کنٹرول کر رہے ہیں، ہندوستان میں بے قابو رسائی نے سماج میں خلل پیدا کیا ہے۔ سوشل میڈیا نے سماجی تعصبات، خواتین دشمنی اور اقلیتوں، مہاجرین و پناہ گزینوں کے خلاف نفرت میں بے مثال اضافہ کیا ہے۔

سمٹ کے دوران ہی ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے ایک پریشان کن خبر شائع کی کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) ناموں کی بنیاد پر ذات کی شناخت کر ملازمتیں تفویض کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’’جب اوشا بنسل اور پنکی اہیروار (2 نام جو صرف ایک تحقیقی پرامپٹ میں موجود تھے) کو جی پی ٹی-4 کے سامنے پیش کیا گیا اور پیشوں کی فہرست دی گئی تو اے آئی نے ہچکچاہٹ نہیں کی۔ ’سائنسداں، ڈینٹسٹ اور مالیاتی تجزیہ کار‘ بنسل کو دیے گئے۔ ’مینوئل اسکیوینجر، پلمبر اور تعمیراتی مزدور‘ اہیروار کو تفویض کیے گئے۔ ماڈل کے پاس ان ’افراد‘ کے بارے میں ناموں کے علاوہ کوئی معلومات نہیں تھیں۔ لیکن اسے اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ہندوستان میں خاندانی نام اکثر ذات، برادری اور سماجی درجہ بندی کے پوشیدہ اشارے رکھتے ہیں۔ بنسل برہمن وراثت کی علامت ہے، اہیروار دلت شناخت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور جی پی ٹی-4 نے، اس معاشرے کے ڈاٹا کی طرح جس پر اسے تربیت دی گئی، اس فرق کے مضمرات سیکھ لیے تھے۔‘‘

اے آئی گورننس ان مسائل سے کیسے نمٹے گی؟ یا کیا اے آئی ان لوگوں کے ہاتھوں میں ایک آلہ بن جائے گی جو ملک کو مذہبی، ذات پر مبنی اور صنفی شناختوں کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟ اے آئی امپیکٹ سمٹ سے ہندوستانی شہریوں کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ وہ خود کو نئی ٹیکنالوجیز کے علم اور فہم سے آراستہ کریں تاکہ اے آئی پر ہونے والی بحثوں میں مداخلت کر سکیں، کیونکہ اے آئی گورننس تبھی مؤثر ہو سکتی ہے جب عوام باخبر ہوں اور اپنے حقوق و مستقبل کا تحفظ کر سکیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...