’امریکی عدالت کے فیصلہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر روک لگائی جائے‘، کانگریس کا مطالبہ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 21, 2026360 Views


جئے رام رمیش نے سوال پوچھا ہے کہ وزیر اعظم کو ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کرنے کی جلدبازی کیوں تھی؟ کیا وہ جنرل نروَنے کی کتاب پر راہل گاندھی کے سوالوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

i

user

کانگریس نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ ٹیرف پر آئے حالیہ فیصلہ کے بعد ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو فوراً روکا جائے۔ کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محکمہ مواصلات کے انچارج جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا کہ اب امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدہ کو ملتوی کر دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت کو ہندوستانی کسانوں کے لیے تجارتی معاہدہ میں تبدیلی کرنی چاہیے۔ ایسا اس لیے کیونکہ تجارتی معاہدہ میں ہی تبدیلی کا التزام موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ عبوری معاہدہ کے فریم ورک میں یہ التزام ہے کہ اگر ایک ملک شرائط میں تبدیلی کرتا ہے تو دوسرا ملک بھی ایسا کر سکتا ہے۔

جئے رام رمیش نے بتایا کہ ’ریسپروکل ٹیرف‘ کو امریکی سپریم کورٹ نے اکثریت سے نامنظور کر دیا ہے۔ فیصلہ میں صاف کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو اس طرح کے ٹیرف لگانے کا حق نہیں تھا، کیونکہ یہ امریکی قانون اور آئین کے خلاف تھا۔ کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے 2 فروری کی شب ہندوستان کےس اتھ تجارتی معاہدہ کا پہلی بار اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی گزارش پر ہو رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسی کیا جلدبازی تھی کہ وزیر اعظم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اُس رات ہی معاہدہ کا اعلان ہو جائے، جبکہ سبھی کو معلوم تھا ٹرمپ کے ریسپروکل ٹیرف کو وہاں سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کیا گیا ہے، اور اس پر روک لگ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2 فروری کو ہی دن میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی طرف سے ایوان میں کی گئی تقریر سے توجہ بھٹکانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے آناً فاناً میں تجارتی معاہدہ کے لیے ٹرمپ سے گزارش کی۔ ظاہر ہے، راہل گاندھی کے ذریعہ سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروَنے کی کتاب میں کیے گئے انکشافات کو لے کر سوال اٹھانے سے مودی گھبرا گئے تھے۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم اپنی شبیہ کو بچانے کے لیے اتنے فکر مند نہ ہوتے، اور صرف 18 دن انتظار کر لیتے تو ہندوستانی کسان اس بحران سے بچ سکتے تھے۔ اس سے ملک کی خود مختاری بھی محفوظ رہتی۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ٹرمپ کے ذریعہ درآمد ٹیرف کو 18 فیصد کی جگہ 10 فیصد کیے جانے پر جشن منانے جیسی کوئی بات نہیں ہے، کیونکہ پہلے یہ شرح اوسطاً 3.5 فیصد تھی۔ انھوں نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ کیا وہ ٹرمپ سے متفق ہیں کہ ہندوستان-امریکہ معاہدہ اب بھی برقرار رہے گا؟ انھوں نے وزیر اعظم اور وزیر برائے کامرس کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ یا اس کے بعد ٹرمپ کے بیانات پر مودی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی آفیشیل بیان نہیں آیا ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے خاص طور سے امریکی زرعی مصنوعات کو دی جانے والی رعایتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستانی کسانوں کی روزی روٹی کو خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاہدہ میں لکھا ہے کہ امریکہ سے درآمد ہونے والے کپاس، سویابین اور پھلوں سمیت زرعی مصنوعات پر ٹیرف کم کر دیے جائیں گے یا پوری طرح ختم کر دیے جائیں گے۔ جئے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ موجودہ غیر یقینی حالات کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی کسانوں کے مفادات کی سیکورٹی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس تجارتی معاہدہ کو ملتوی کیا جانا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...